MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
بلاگ

"تعلیم یافتہ خواتین کو نظر نہ آنے والی رکاوٹیں محدود کر رہی ہیں”

Last updated: نومبر 20, 2025 5:03 شام
Sana Mustafa
Share
SHARE

پاکستان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی اعلیٰ تعلیم کے باوجود اُن کی پیشہ ورانہ زندگی محدود ہی رہتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کا داخلہ نمایاں طور پر بڑھا ہے اور کئی شہری تعلیمی اداروں میں لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ ہیں مگر اس کے باوجود بہت کم خواتین تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت اختیار کر پاتی ہیں یا پیشہ ورانہ میدان میں ٹِک پاتی ہیں۔

خاندانی دباؤ، سماجی توقعات، اور دفتری امتیاز اکثر خواتین کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے رہتے ہیں۔ سب سے طاقتور رکاوٹ وہ خاموش سماجی خوف ہے: “لوگ کیا کہیں گے؟” یہی دباؤ نہ صرف خواتین کے انتخاب محدود کرتا ہے بلکہ اُن کے اعتماد اور خودمختاری کو بھی متاثر کرتا ہے۔

نفسیاتی دباؤ اور خواہشات کی جنگ

بچپن سے لڑکیوں کو پڑھنے اور اچھے نمبرز لانے کی حوصلہ افزائی تو کی جاتی ہے، لیکن عملی زندگی میں قدم رکھنے یا مکمل وقت کی ملازمت کی خواہش پر اُتنا ساتھ نہیں دیا جاتا۔ اکثر گھرانوں میں فرمانبرداری اور حیا کو خودمختاری اور پیشہ ورانہ امنگ پر ترجیح دی جاتی ہے۔
یہی تضاد لڑکیوں میں احساسِ جرم، الجھن اور کم ہوتی ہوئی خود اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔

شہروں میں نئی بحث: ’بائیولوجیکل کلاک‘ کا دباؤ

شہری علاقوں میں تعلیم عام ہونے کے بعد اب سوال بدل گیا ہے۔ پہلے پوچھا جاتا تھا “کیا وہ پڑھ سکتی ہے؟” اب اکثر کہا جاتا ہے “کیا وہ وقت پر شادی کر پائے گی؟”

بہت سی لڑکیوں کو سننے کو ملتا ہے کہ اگر وہ کیریئر پر زیادہ توجہ دیں گی تو شادی یا ماں بننے کا “وقت نکل جائے گا”۔ کئی گھروں میں شرط رکھی جاتی ہے کہ لڑکی نوکری صرف اُس وقت کرے جب اس کی منگنی یا شادی طے ہو جائے۔
یوں ملازمت کا فیصلہ والدین سے نکل کر شوہر کے ہاتھ میں منتقل ہو جاتا ہے، اور تعلیم یافتہ خواتین بھی نئی مگر باریک پابندیوں میں گھری رہتی ہیں۔

حقوقِ نسواں کی کارکن نگہت سعید خان کے مطابق، “خواتین کو تعلیم دینا ابھی تک انہیں بااختیار بنانے کے مترادف نہیں سمجھا جاتا۔ معاشرہ اب بھی عورت کی تعلیم کو شادی اور گھر تک محدود رکھتا ہے، نہ کہ ذاتی انتخاب تک۔”

دیہی اور شہری فرق: ماحول مختلف، جدوجہد ایک جیسی

شہری خواتین کو دفتری امتیاز، شیشے کی چھت اور ہراسانی کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ دیہی خواتین کے لیے بنیادی رکاوٹیں جیسے آمدورفت، سکیورٹی اور مواقع ہی محدود ہیں۔
دیہات سے شہروں میں کام کے لیے آنے والی خواتین کو ثقافتی جھٹکے اور تنہائی جیسے مسائل بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اُن کے لیے کیریئر صرف پیشہ ورانہ کامیابی نہیں، بلکہ جذباتی اور سماجی توازن کا امتحان بھی ہوتا ہے۔

تنظیمی چیلنجز: دفاتر میں عدم تحفظ اور نابرابری

پاکستان کے اکثر دفاتر میں خواتین کے لیے سازگار ماحول اب بھی نایاب ہے۔ غیر لچکدار اوقات، چائلڈ کیئر کی کمی، کم تنخواہیں اور ہراسانی جیسے مسائل خواتین کو وقت سے پہلے پیشہ ورانہ سفر چھوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
ہر ایسے انخلا کے ساتھ ملک اپنی آدھی آبادی کی صلاحیت سے محروم ہوتا رہتا ہے۔

آگے کا راستہ: بااختیاری، اعتماد اور شمولیت

تبدیلی کے لیے گھریلو، تعلیمی اور ادارہ جاتی سطح پر مشترکہ کوشش ضروری ہے۔
گھروں میں یہ سوچ مضبوط ہونی چاہیے کہ عورت کی مالی اور جذباتی خودمختاری خاندان کو مضبوط کرتی ہے، کمزور نہیں۔
تعلیمی اداروں کو ایسے رہنمائی پروگرام دینے چاہئیں جو صنفی دقیانوسی تصورات کو توڑیں اور اعتماد بڑھائیں۔
دفاتر کو خواتین کے لیے محفوظ، باعزت اور لچکدار ماحول مہیا کرنا چاہیے۔

اصل بااختیاری تب آئے گی جب خواتین اپنی امنگوں کی تعریف خود کریں اور سمجھیں کہ کیریئر بنانا ثقافت کے خلاف نہیں، بلکہ اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کا عمل ہے۔۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article فیض احمد فیض کی 41ویں برسی پر قوم کا خراجِ عقیدت
Next Article نیپال کنسرٹ میں بھارتی پرچم لہرانے پر تنقید؛ طلَحہ انجم کی معافی
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
لاہور میں چیف منسٹر ایڈلٹ کارڈیک سرجری پروگرام کا آغاز
Health
مارچ 25, 2026
چیا سیڈز ہر کسی کیلئے مفید نہیں: طبی ماہرین کی اہم وارننگ
Health
مارچ 25, 2026
وزن میں کمی سے مدافعتی نظام بہتر، کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے
Health
مارچ 25, 2026
ہائی کولیسٹرول دبلے افراد میں بھی دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے، ماہر امراض قلب
Health
مارچ 25, 2026
تپ دق صحت، سماجی اور معاشی چیلنج، مکمل خاتمہ کیا جائے گا: شہباز شریف
Health
مارچ 24, 2026
ہیپاٹائٹس سی کی زیرِ آزمائش دوا سے متعلق انکشاف
Health
مارچ 24, 2026

You Might Also Like

بلاگ

آبادی، بدعنوانی اور موسمیاتی تبدیلی: وہ تین خطرات جو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے

By Sana Mustafa
انٹرٹینمنٹبلاگ

پاکستان میں گدھوں کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی، چینی طلب میں اضافہ اہم وجہ

By Ayesha Aqil
بلاگ

جمہوریت کا گلا گھونٹنے والی سازشیں: ایران، مصدق، پہلوی اور مغربی طاقتوں کی منافقت

By Hannan Khani
بلاگ

ٹیکنالوجی بمقابلہ فطرت: کیا جدید ایجادات خاموشی سے انسانیت کو نقصان پہنچا رہی ہیں

By Sana Mustafa
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?