پاکستان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی اعلیٰ تعلیم کے باوجود اُن کی پیشہ ورانہ زندگی محدود ہی رہتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کا داخلہ نمایاں طور پر بڑھا ہے اور کئی شہری تعلیمی اداروں میں لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ ہیں مگر اس کے باوجود بہت کم خواتین تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت اختیار کر پاتی ہیں یا پیشہ ورانہ میدان میں ٹِک پاتی ہیں۔
خاندانی دباؤ، سماجی توقعات، اور دفتری امتیاز اکثر خواتین کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے رہتے ہیں۔ سب سے طاقتور رکاوٹ وہ خاموش سماجی خوف ہے: “لوگ کیا کہیں گے؟” یہی دباؤ نہ صرف خواتین کے انتخاب محدود کرتا ہے بلکہ اُن کے اعتماد اور خودمختاری کو بھی متاثر کرتا ہے۔
نفسیاتی دباؤ اور خواہشات کی جنگ
بچپن سے لڑکیوں کو پڑھنے اور اچھے نمبرز لانے کی حوصلہ افزائی تو کی جاتی ہے، لیکن عملی زندگی میں قدم رکھنے یا مکمل وقت کی ملازمت کی خواہش پر اُتنا ساتھ نہیں دیا جاتا۔ اکثر گھرانوں میں فرمانبرداری اور حیا کو خودمختاری اور پیشہ ورانہ امنگ پر ترجیح دی جاتی ہے۔
یہی تضاد لڑکیوں میں احساسِ جرم، الجھن اور کم ہوتی ہوئی خود اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔
شہروں میں نئی بحث: ’بائیولوجیکل کلاک‘ کا دباؤ
شہری علاقوں میں تعلیم عام ہونے کے بعد اب سوال بدل گیا ہے۔ پہلے پوچھا جاتا تھا “کیا وہ پڑھ سکتی ہے؟” اب اکثر کہا جاتا ہے “کیا وہ وقت پر شادی کر پائے گی؟”
بہت سی لڑکیوں کو سننے کو ملتا ہے کہ اگر وہ کیریئر پر زیادہ توجہ دیں گی تو شادی یا ماں بننے کا “وقت نکل جائے گا”۔ کئی گھروں میں شرط رکھی جاتی ہے کہ لڑکی نوکری صرف اُس وقت کرے جب اس کی منگنی یا شادی طے ہو جائے۔
یوں ملازمت کا فیصلہ والدین سے نکل کر شوہر کے ہاتھ میں منتقل ہو جاتا ہے، اور تعلیم یافتہ خواتین بھی نئی مگر باریک پابندیوں میں گھری رہتی ہیں۔
حقوقِ نسواں کی کارکن نگہت سعید خان کے مطابق، “خواتین کو تعلیم دینا ابھی تک انہیں بااختیار بنانے کے مترادف نہیں سمجھا جاتا۔ معاشرہ اب بھی عورت کی تعلیم کو شادی اور گھر تک محدود رکھتا ہے، نہ کہ ذاتی انتخاب تک۔”
دیہی اور شہری فرق: ماحول مختلف، جدوجہد ایک جیسی
شہری خواتین کو دفتری امتیاز، شیشے کی چھت اور ہراسانی کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ دیہی خواتین کے لیے بنیادی رکاوٹیں جیسے آمدورفت، سکیورٹی اور مواقع ہی محدود ہیں۔
دیہات سے شہروں میں کام کے لیے آنے والی خواتین کو ثقافتی جھٹکے اور تنہائی جیسے مسائل بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اُن کے لیے کیریئر صرف پیشہ ورانہ کامیابی نہیں، بلکہ جذباتی اور سماجی توازن کا امتحان بھی ہوتا ہے۔
تنظیمی چیلنجز: دفاتر میں عدم تحفظ اور نابرابری
پاکستان کے اکثر دفاتر میں خواتین کے لیے سازگار ماحول اب بھی نایاب ہے۔ غیر لچکدار اوقات، چائلڈ کیئر کی کمی، کم تنخواہیں اور ہراسانی جیسے مسائل خواتین کو وقت سے پہلے پیشہ ورانہ سفر چھوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
ہر ایسے انخلا کے ساتھ ملک اپنی آدھی آبادی کی صلاحیت سے محروم ہوتا رہتا ہے۔
آگے کا راستہ: بااختیاری، اعتماد اور شمولیت
تبدیلی کے لیے گھریلو، تعلیمی اور ادارہ جاتی سطح پر مشترکہ کوشش ضروری ہے۔
گھروں میں یہ سوچ مضبوط ہونی چاہیے کہ عورت کی مالی اور جذباتی خودمختاری خاندان کو مضبوط کرتی ہے، کمزور نہیں۔
تعلیمی اداروں کو ایسے رہنمائی پروگرام دینے چاہئیں جو صنفی دقیانوسی تصورات کو توڑیں اور اعتماد بڑھائیں۔
دفاتر کو خواتین کے لیے محفوظ، باعزت اور لچکدار ماحول مہیا کرنا چاہیے۔
اصل بااختیاری تب آئے گی جب خواتین اپنی امنگوں کی تعریف خود کریں اور سمجھیں کہ کیریئر بنانا ثقافت کے خلاف نہیں، بلکہ اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کا عمل ہے۔۔
