راولپنڈی: پاکستان اور تاجکستان نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے اور عسکری شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ پیشرفت جمعہ کو سامنے آئی۔
جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں تاجکستان کے وزیرِ دفاع کرنل جنرل سوبیرزودا ایومالی عبدالرحیم نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سکیورٹی صورتِ حال اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر بات چیت ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک نے تربیت، انسدادِ دہشت گردی اقدامات اور علاقائی امن کے شعبوں میں عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ تاجک وزیرِ دفاع نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کے کردار کا اعتراف کیا۔
آرمی چیف عاصم منیر نے علاقائی امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، تاجکستان کے ساتھ دفاعی و سکیورٹی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
دونوں ممالک کے عزم کی یہ تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جب پاکستان اور تاجکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ مشق “دوستی۔II” کامیابی سے مکمل کی۔ یہ مشق 4 سے 9 اگست 2025 تک فخروبود بیس تاجکستان میں ہوئی۔
مشق میں پاکستان آرمی کی لائٹ کمانڈو بٹالین کی دو اور تاجکستان اسپیشل فورسز کی چار ٹیموں نے حصہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ملکوں کے فوجیوں نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام تربیتی اور عسکری سفارتکاری کے اہداف حاصل کیے۔
مشترکہ مشق کا مقصد دو دوستانہ ممالک کے دیرینہ عسکری تعلقات کو فروغ دینا اور انسدادِ دہشت گردی کے عملی طریقۂ کار کو مزید بہتر بنانا تھا۔
