بالی ووڈ اداکار رنویـر سنگھ ایک بار پھر نئے تنازع کا شکار ہوگئے ہیں، جہاں بنگلورو کے ہائی گراؤنڈز تھانہ میں ان کے خلاف مذہبی روایت کی توہین کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
مقامی وکیل پراشانت میتھل کی جانب سے دائر شکایت کے مطابق رنویر نے مقدس ہندو رسومات "بھوتا کولہ” اور "دیوا” کی بے ادبی کی، جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تاہم ہندو انتہا پسند گروہوں کا دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے تھانے کا گھیراؤ کرنے کی بھی کوشش کی، تاہم پولیس نے صورتِ حال کو قابو میں کرلیا۔ اس کے باوجود بعض گروہ معاملے کو مزید آگے بڑھانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب رنویر نے گوا میں ایک ایوارڈز شو کے اختتامی پروگرام میں اداکار رِشب شیٹی کی فلم کانتارا کے کردار کی نقل اتاری۔ اس اداکاری پر عوامی تنقید ہوئی تو رنویر نے انسٹاگرام پر وضاحت دی کہ ان کا مقصد صرف رِشب شیٹی کی پرفارمنس کو سراہنا تھا، نہ کہ کسی عقیدے یا روایت کی توہین۔
تاہم ردِعمل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا۔ ہندو جنا جاگروتی سمیتی نے بھی ایک علیحدہ شکایت دائر کی، جس میں الزام لگایا گیا کہ رنویر نے اپنے اسٹیج ایکٹ کے دوران دیوی چمنڈا کی توہین کی۔ اس طرح رنویر اب دو مختلف ریاستوں میں قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔
اداکار نے اس معاملے پر مزید کوئی بیان جاری نہیں کیا، جبکہ ان کی قانونی ٹیم لائحۂ عمل پر غور کر رہی ہے۔ اس تمام ہنگامے کے باوجود رنویر اپنی نئی فلم "دھورندھر” کی تشہیر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ صورتِ حال ہندوستانی فلم انڈسٹری میں اظہارِ رائے اور ثقافتی حساسیت کے درمیان نازک توازن کو ایک بار پھر نمایاں کرتی ہے۔
