تحریر: وجیہہ بتول
واقعہ کربلا دنیا کی تاریخ کا سب سے زیادہ امتحان صبر کا واقعی اس جنگ میں مسلمانوں نے مسلمانوں پر خنجر چلاۓ بس فرق یہ ہے کہ ایک طرف سرور دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا گھرانہ تھا اور دوسری طرف انکو ماننے والے اور ان کی اولادیں اور پھر فقط ایک تخت کی خاطر نواسہ ِرسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو دشت نینوا میں بچوں سمیت 3 روز پیاسا رکھنے کے بعد 10 محرم الحرام کو پیاسا شہید کیا گیا۔
پیاسا حسین {علیہ السلام} کو کہوں اتنا تو بے ادب نہیں
لمس لب حسین {علیہ السلام} کو ترسا ہے آب ریت پر
پھر نماز میں ان ہی پر درود پڑھا گیا اور پھر فتح کا جشن منایا گیا ۔ اور پھر اس مقدس گھرانے کی عورتوں بچوں اور بیماروں کو قیدی بنا کر کوفہ اور شام کی گلیوں اور بازاروں میں {نعوذباللہ} باغی کہ کر متعارف کرایا گیا اور دربار یزید میں انہیں بے ردا پیش کر کے {نعوذباللہ} ان کا تمسخر اڑایا گیا اور پھر اس ہی دربار میں بی بی زینب سلام اللہ علیہا اور مولا سجاد علیہ السلام نے خطبہ دیا جس کے بعد انہیں قیدی بنایا گیا اور جناب سکینہ بنت الحسین علیہ السلام کی وہیں شہادت ہوئی اور انہیں وہیں دفن کیا گیا پھر وقت نے پیاسا پلٹا جنہوں نے تخت و تاج کے لیے جنگ ان کو بھی یہ تخت نصیب نہ ہوا۔
ملتا نہیں اب کوئی سہارا یزید کو
اس طرح سے زینب {علیہ السلام} نے اجاڑا یزید کو
خاتون جنگ کر نہیں سکتی تھی اس لیۓ
خطبوں کی ذوالفقار سے مارا یزید کو
امام حسین علیہ السلام کی قیادت میں شروع ہونیوالی حسینی تحریک کا ایک بنیادی پہلو بیداری اور احیاء پر مبنی تھا۔ پانچ دہائیوں بعد حقیقی محمدی ﷺ اسلام کو دوبارہ اجاگر کرنا امام حسین علیہ السلام کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد تھا۔ عاشورا اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قیام ثمربخش ثابت ہوا اور اسلامی دنیا میں بیداری کی ایک عظیم لہر اُٹھی، جس نے طاغوتی حکومتوں کی بنیادیں ہلا دیں۔
کربلا کا پیغام اور ائمہ کی تاکید
واقعہ کربلا کا بیداری کا پہلو کبھی ختم نہیں ہوا۔ ائمہ معصومین علیہم السلام نے ہمیشہ اس واقعے کی یاد کو زندہ رکھنے پر زور دیا تاکہ امت میں جہاد اور شوقِ شہادت کا جذبہ قائم رہے۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی روحانی ذخیرے کو موجودہ حالات پر منطبق کرتے ہوئے ظلم کی عمارت کو گرا دیا اور بیداری کی اس تحریک کو نیا معنی عطا کیا۔
چہلم کا تاریخی اور روحانی پس منظر
چہلم امام حسین علیہ السلام کو حسینی تحریک میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کے مطابق، امام حسین علیہ السلام سے محبت کا پہلا چشمہ چہلم کے دن جاری ہوا، جب جابر بن عبداللہ انصاری اور عطیہ امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے لیے کربلا پہنچے۔ یہ روایت آج دنیا بھر میں عقیدت کے ساتھ منائی جاتی ہے۔
زیارت اربعین: مومن کی علامت
روایات میں زیارت اربعین کو مومن کی علامات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اہلبیت اطہار علیہم السلام شام کی قید سے رہائی کے بعد چہلم کے دن ہی کربلا واپس پہنچے۔ یہ موقع دراصل عاشورا کی طرف دوبارہ پلٹنے اور کربلا کو زندگی کا مرکز بنانے کا پیغام دیتا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع
آج پوری دنیا سے محبین اہلبیت علیہم السلام اربعین موقع پر کربلا کا سفر کرتے ہیں۔ یہ ریلی دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع سمجھی جاتی ہے۔ جس میں زائرین نجف سے کربلا تک پیدل سفر کرکے آل رسول کو پرسہ دیتے ہیں۔
پر زبان ذکر مولا حسین {علیہ السلام} کرے
ساری دنیا حسین {علیہ السلام} حسین {علیہ السلام} کرے
مذاہب کی سرحدوں سے پرے محبتِ حسین علیہ السلام
چہلم امام حسین علیہ السلام پر پیدل مارچ میں اب غیر مسلم بھی شرکت کرنے لگے ہیں۔ یہ ایک مکمل عوامی اجتماع ہے، جہاں لوگ روحانی جذبے کے ساتھ امام حسین علیہ السلام سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس سر زمین پر بلا کسی تفرقے کے تمام انسان مولا امام حسین علیہ السلام کے روضہ پر حاضری دیتے ہیں۔
کل تو تھے عاشور میں تنہا میرے مولا
آج ہے ساتھ آپ کے یہ سارا زمانہ
آپ کو ہر نسل نے ہر قوم نے مانا
ہوتا ہے ہر ملک میں لبیک حسینا
ان اسلام کی بقاء کی خاطر کی دی ہوئی قربانی کا ذکر کرتے ہیں جو کہ دین خدا کی بقاء کی پہچان ہے۔آج یہ تمام عالم لبیک یا حسین علیہ السلام کی صدا سے گونج رہا ہے۔
سارا زمانہ ہے تمہارا یا حسین علیہ السلام
تم اکیلے نہیں ہو یا حسین علیہ السلام
