ایران نے پیر کی صبح قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے "العدید ایئر بیس” پر میزائل حملہ کر دیا۔ یہ حملہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے ردعمل کے طور پر کیا گیا ہے۔
عینی شاہدین نے دوحہ میں آسمان پر میزائلوں کو پرواز کرتے اور پھر زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ تاحال امریکی یا قطری حکام کی جانب سے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے "امریکی جارحیت کا زبردست اور کامیاب جواب” قرار دیا اور پس منظر میں جنگی نغمے بھی نشر کیے۔
قطر نے حملے سے قبل اپنی فضائی حدود احتیاطاً بند کر دی تھیں، کیونکہ ایران کی جانب سے واضح خطرات دیے جا رہے تھے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے حملے سے چند لمحے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پیغام جاری کیا:
> “ہم نے جنگ کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی ہم اسے چاہتے ہیں، مگر عظیم ایران پر حملے کو بے جواب نہیں چھوڑا جائے گا۔”
العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا مرکزی دفتر واقع ہے۔ ایران پہلے بھی اس اڈے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے چکا ہے۔
اگرچہ قطر اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات موجود ہیں اور دونوں ممالک ایک بڑے سمندری گیس کے ذخیرے میں شریک ہیں، لیکن موجودہ کشیدگی نے خلیج فارس میں صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔
اسی دن، اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں میں وسعت دیتے ہوئے تہران کی بدنام زمانہ ایوین جیل کے دروازے اور مظاہروں کو کچلنے والے ایرانی سیکیورٹی ادارے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
یہ سلسلہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی کیفیت کی نشاندہی کر رہا ہے جو کسی بھی وقت پورے مشرق وسطیٰ کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
—
