غزہ کے لیے روانہ بین الاقوامی امدادی مشن "گلوبل صمود فلوٹیلا” نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے کھلے سمندر میں اُن کی کشتیوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے۔ منتظمین کے مطابق رات کے وقت غیر شناخت شدہ بحری جہاز نزدیک آئے اور مواصلاتی نظام میں خلل ڈالا گیا۔
رضاکاروں کا کہنا ہے کہ بعض کشتیوں کے قریب ڈرونز پرواز کرتے دکھائی دیے جن سے ممکنہ طور پر آنسو گیس یا دوسرے کیمیائی مادّے فضا میں چھوڑے گئے۔ تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی حکام نے فلوٹیلا کو “سکیورٹی رسک” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسے غزہ کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر فلوٹیلا کو روک کر اشدود بندرگاہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔
تقریباً 500 کارکنوں پر مشتمل یہ مشن مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنان اور امن پسند شخصیات کی شمولیت سے تشکیل پایا ہے۔ شرکاء کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد محض امدادی سامان پہنچانا اور ناکہ بندی کے خلاف پرامن احتجاج کرنا ہے۔
بین الاقوامی ماہرینِ قانون نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے کھلے سمندر میں طاقت کا استعمال کیا تو یہ عالمی بحری قوانین کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ انسانی حقوق تنظیموں نے اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
