مظفرآباد — جماعتِ اسلامی آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان نے عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) کی جدوجہد سے باضابطہ علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت، ڈاکٹر مشتاق خان، نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آغاز میں جماعت کے بڑے حصے نے اے اے سی کے ساتھ شمولیت اختیار کی اور خود انہوں نے بھی ایک جلسے میں خطاب کیا تھا، تاہم بعد ازاں حالات بدلے۔
ڈاکٹر مشتاق خان کا کہنا تھا کہ جب جماعت کے دو اہم مطالبات تسلیم کیے گئے تو انہیں احساس ہوا کہ ان کا بنیادی ایجنڈا حد درجہ پُر کیا جا چکا ہے، لیکن اس کے بعد کچھ افراد نے تحریک کے دائرے سے ہٹ کر پاکستان مخالف بیانات اور قومی پرچم کے حوالے سے ایسے رویّے اپنائے جو جماعت کے موقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے جماعتِ اسلامی نے اپنے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ اپنا پلیٹ فارم ترتیب دیں اور اے اے سی سے علیحدہ حکمتِ عملی اپنائیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی کا مطلب عوامی ایکشن کمیٹی کی مخالفت نہیں بلکہ وہ ایک مثبت، منظم اور ملکی مفادات کے مطابق لائحہ عمل اپنانا چاہتی ہے۔ جہاں اے اے سی کے مطالبات کشمیری آزادی یا پاکستانیت کے تناظر میں مناسب نہ ہوں گے، جماعت اُن کا ساتھ نہیں دے گی۔
