جیسپر، البرٹا: کینیڈا کے مشہور تفریحی مقام ‘جیسپر نیشنل پارک’ میں لگی آگ نے تباہ کن رخ اختیار کر لیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آگ کا دائرہ کار دوگنا ہو چکا ہے، جس کے بعد حکام نے قصبے کے 5 ہزار رہائشیوں اور وہاں موجود ہزاروں سیاحوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
تیز ہواؤں اور خشک موسم نے آگ کو بے قابو کر دیا ہے۔ بدھ کی شام تک شعلے قصبے کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔ حکام کے مطابق ہائی وے 16، جو یہاں سے نکلنے کا واحد بڑا راستہ ہے، پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں اور انتظامیہ کے لیے لوگوں کا محفوظ انخلا یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
مقامی رہائشیوں کے لیے یہ انخلا کسی اچانک آفت سے کم نہیں تھا۔ دوپہر کے وقت آسمان کا رنگ دھوئیں کی وجہ سے نارنجی پڑ گیا اور کچھ ہی دیر میں انخلا کے سائرن بجا دیے گئے۔ بہت سے لوگوں نے صرف اپنی جانیں بچانے کو ترجیح دی اور گھر کا سامان پیچھے ہی چھوڑ دیا۔
ایک مقامی کاروباری خاتون سارہ ملر نے ایڈمنٹن کی جانب روانہ ہوتے ہوئے بتایا، "ہمارے پاس سامان پیک کرنے کا وقت ہی نہیں تھا۔ بس پالتو جانور اور چابیاں اٹھائیں اور نکل آئے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ کا پھیلاؤ اتنا تیز ہے کہ فائر فائٹرز کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ قصبے کے ارد گرد موجود سوکھے ہوئے پائن کے درخت آگ کے لیے ایندھن کا کام کر رہے ہیں، جس سے پیدا ہونے والی تپش اتنی زیادہ ہے کہ آگ بجھانے والا عملہ شعلوں کے قریب بھی نہیں جا سکتا۔
البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے صورتحال کو "دل دہلا دینے والا” قرار دیا ہے۔ حکومت کی تمام تر توجہ اب ہنٹن اور ایڈسن کے علاقوں میں قائم کیے گئے عارضی کیمپوں پر ہے، جہاں بے گھر ہونے والے افراد کو پناہ دی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ سیاحتی سیزن کے عین عروج پر پیش آیا ہے۔ دنیا بھر سے آئے سیاح اب پہاڑی راستوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ جیسپر، جو کینیڈین راکیز کا دل سمجھا جاتا ہے، اب ایک ویران قصبے کا منظر پیش کر رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ انخلا کے احکامات کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
فائر فائٹرز اب آگ بجھانے کے بجائے عمارتوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قصبے کی کئی تاریخی عمارتیں اس آگ کی نذر ہو چکی ہیں۔
رات کے اندھیرے میں پہاڑوں سے اٹھتے شعلے کئی میل دور سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ جیسپر کے مکینوں کے لیے اب صرف ایک ہی سوال ہے کہ جب دھواں چھٹے گا، تو کیا ان کا قصبہ پہلے جیسا باقی رہے گا؟
