لاہور کے دل میں کبھی فنکاروں اور موسیقاروں کی پناہ گاہ سمجھا جانے والا True Brew اب کراچی پہنچ گیا ہے—لیکن اس شکل میں نہیں جسے پرانے چاہنے والے یاد کرتے ہیں۔ بخاری کمرشل میں کھلنے والی اس نئی شاخ میں نہ تو ساؤنڈ پروف دیواریں ہیں، نہ سازوں سے بھرا کوئی جیم روم۔ اس بار True Brew ایک تخلیقی کیفے کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں فنکار، فلم ساز اور لکھاری ایک ہی جگہ جمع ہو سکیں۔
لاہور کا True Brew برسوں تک انڈی موسیقی کا مرکز رہا۔ نیم تاریک کمروں، بکھرے سازوں اور رات گئے تک چلتی جَیم سیشنز نے اسے ایک ایسی جگہ بنا دیا تھا جہاں نئے اور پرانے موسیقار بلا جھجھک تجربے کرتے، ریکارڈنگ کرتے اور ایک دوسرے سے سیکھتے تھے۔
کراچی میں منظر بدل چکا ہے۔ یہاں سازوں کی جگہ لکڑی کی میزیں، ہریالی، نرم روشنی اور ایک جدید کافی بار نے لے لی ہے۔ دیواروں پر گٹاروں کی جگہ آرٹ پیسز اور کتابوں کی شلفیں سجی ہیں۔ کافی کا معیار بھی حیران کن حد تک سراہا جا رہا ہے—خصوصاً pour-over کافی کو شہر کے بہترین میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے True Brew کے بانی، جَمال رحمان کا واضح مقصد ہے۔ ان کے مطابق آج کا تخلیقی ماحول بکھر چکا ہے؛ فنکار الگ الگ دائرے میں کام کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایسی جگہ دوبارہ بنے جہاں موسیقار، فلم ساز اور لکھاری ایک دوسرے سے جڑ سکیں۔ اس بار مقصد اسٹوڈیو کھولنا نہیں بلکہ کمیونٹی کو جوڑنا تھا۔
کیفے میں وقتاً فوقتاً چھوٹے گِگز، لسننگ سیشنز، فلم اسکریننگ اور تخلیقی ملاقاتوں کا بھی اہتمام ہوگا—یوں True Brew کی روح برقرار رہے گی، چاہے مائیک اور ریکارڈنگ کنسول موجود نہ ہوں۔ البتہ کچھ پرانے مداح اس بدلی ہوئی فضا میں وہی انوکھی ’روایت‘ ڈھونڈ رہے ہیں جو لاہور کی شاخ کو خاص بناتی تھی۔
یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کراچی کا تخلیقی حلقہ اس نئی شناخت کو کس طرح قبول کرتا ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ True Brew کی واپسی—چاہے نئی شکل میں ہی کیوں نہ ہو—شہر میں فنکاروں کو ایک بار پھر قریب لانے کی کوشش ہے۔
اور شاید یہی اس کی اصل کامیابی ثابت ہو۔
