ارجنٹائن کے عالمی شہرت یافتہ فٹبال اسٹار لیونل میسی کے تین روزہ ’’گوٹ ٹور آف انڈیا‘‘ سے متعلق اہم مالی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ اس دورے کے مرکزی منتظم ستادرو دتہ نے انکشاف کیا ہے کہ تقریب کے دوران بار بار لوگوں کی جانب سے چھونے اور گلے لگانے پر میسی ناخوش تھے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کلکتہ میں منعقدہ تقریب کے دوران بدنظمی اور سیکیورٹی کی سنگین کوتاہیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو دیے گئے بیان میں ستادرو دتہ نے بتایا کہ لیونل میسی کے بھارت دورے پر مجموعی طور پر تقریباً 100 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ میسی کو بھارت آنے کے لیے 89 کروڑ روپے معاوضہ دیا گیا جبکہ 11 کروڑ روپے بطور ٹیکس بھارتی حکومت کو ادا کیے گئے، یوں اس دورے کی مجموعی لاگت 100 کروڑ روپے بنی۔
ذرائع کے مطابق اس رقم کا تقریباً 30 فیصد اسپانسرشپ اور 30 فیصد ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل کیا گیا۔
ایس آئی ٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 دسمبر کو سالٹ لیک اسٹیڈیم میں ہونے والی تقریب کے دوران غیر ملکی سیکیورٹی اہلکاروں نے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ میسی کسی کو قریب آنے یا جسمانی رابطے کی اجازت نہیں دیں گے، تاہم بار بار اعلانات کے باوجود ہجوم قابو سے باہر ہو گیا، جس کے باعث میسی مقررہ وقت سے قبل ہی اسٹیڈیم چھوڑ گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال کے وزیرِ کھیل آروپ بسواس پر بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے تصاویر کے دوران میسی کو کمر سے تھاما اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے رشتے داروں اور قریبی افراد کو ان تک رسائی دی۔ شدید تنقید کے بعد آروپ بسواس نے تحقیقات مکمل ہونے تک وزارتِ کھیل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
