میر رضا علی کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے کیس میں اہم پیش رفت کے لیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ تحقیقات میں تعطل اور ٹھوس شواہد کی عدم دستیابی کے بعد کیا گیا ہے۔
کمیشن کے ارکان کا کہنا ہے کہ انعام کا مقصد ان گواہوں کو سامنے لانا ہے جو اب تک خاموش ہیں۔ حکام کو امید ہے کہ مالی ترغیب سے وہ معلومات حاصل ہو سکیں گی جو اب تک تفتیشی ٹیم کی پہنچ سے دور تھیں۔
کمیشن کو میر رضا علی کے اچانک لاپتہ ہونے کے حالات کی تہہ تک پہنچنے کا ٹاسک دیا گیا تھا، تاہم کارروائی کی سست روی پر اسے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن اور متاثرہ خاندان کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ ریاست کا موجودہ طریقہ کار اس کیس کی حساسیت کے مطابق نہیں ہے۔
ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ ’’روایتی سوال و جواب سے جو کام نہیں ہو سکا، اب شاید مالی ترغیب سے وہ رکاوٹ دور ہو سکے۔ کمیشن کو نام، مقامات یا آخری گھنٹوں کی واضح ٹائم لائن درکار ہے، جو فی الحال غائب ہے۔‘‘
ایک لاکھ روپے کی رقم پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی معمولی رقم ایسے کیس میں جہاں بااثر افراد ملوث ہونے کا شبہ ہو، معلومات حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام کسی حکمت عملی کا حصہ نہیں بلکہ کمیشن کی مایوسی کا عکاس ہے۔
کمیشن نے معلومات فراہم کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھنے کی ضمانت دی ہے۔ اس یقین دہانی کے باوجود، کیس پر نظر رکھنے والوں میں شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جوابات عوام کے پاس نہیں، بلکہ سرکاری اداروں کے خفیہ دفاتر میں چھپے ہوئے ہیں۔
کمیشن کی اگلی سماعت آئندہ ہفتے شیڈول ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ انعام کوئی نیا گواہ سامنے لاتا ہے یا یہ کیس اسی طرح سوالات کی نذر رہتا ہے۔
