برسبین: آسٹریلیا کے مچل اسٹارک نے جمعرات کو انگلینڈ کے خلاف جاری ایشز ٹیسٹ میں پاکستان کے عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم کا دیرینہ ریکارڈ توڑتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین لیفٹ آرم پیسر کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔
اسٹارک نے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں بین ڈکٹ، اولی پوپ اور ہیری بروک کی اہم وکٹیں حاصل کر کے یہ سنگِ میل عبور کیا۔ وسیم اکرم نے 104 ٹیسٹ میں 414 وکٹیں لی تھیں، جب کہ اسٹارک نے صرف 102 میچز میں 415 وکٹیں حاصل کر کے انہیں پیچھے چھوڑ دیا۔
آسٹریلوی فاسٹ بولر نے ابتدا ہی میں شاندار بولنگ کی اور ڈکٹ اور پوپ کو بغیر کوئی رن بنائے پویلین بھیج کر انگلینڈ پر دباؤ بڑھا دیا۔
اسٹارک کے اس متاثر کن اسپیل کی بدولت ان کے نام کئی مزید ریکارڈ بھی درج ہو گئے۔
انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ آسٹریلیا نے اس میچ میں مکمل پیس اٹیک کھلایا اور سینئر اسپنر نیتھن لائن کو آرام دیا، جو 2012 کے بعد گھر میں صرف دوسری بار ٹیم سے باہر تھے۔ کپتان پیٹ کمنز بھی دستیاب نہیں تھے۔
اسٹارک نے اپنے پہلے اوور کی آخری گیند پر ڈکٹ کو گولڈن ڈک پر آؤٹ کیا، ایک خوبصورت آؤٹ سوئنگر کے ذریعے جس کا ایج سلپ میں مارنس لیبوشین نے پکڑا۔
اگلے ہی اوور میں اولی پوپ بھی اسٹارک کی گیند اسٹمپ میں کھیل کر بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ ہوگئے۔
ڈکٹ کی وکٹ نے اسٹارک کو ڈے نائٹ ٹیسٹ میں 84 وکٹوں کے ساتھ دنیا کا سب سے کامیاب بولر بنا دیا — وہ ساتھی بولر پیٹ کمنز سے 41 وکٹیں آگے ہیں۔
اسی کے ساتھ اسٹارک گروپ میں پہلا بولر بن گئے جس نے پنک بال ٹیسٹ میں ایک ہی ٹیم (انگلینڈ) کے خلاف 20 سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔
خبر فائل کیے جانے تک انگلینڈ نے 41 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 181 رنز بنا لیے تھے۔ اوپنر زیک کراؤلے 93 گیندوں پر 76 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
ابتدائی دونوں آؤٹ ہونے کے بعد جو روٹ اور ہیری بروک نے اہم شراکت سے اننگز کو سہارا دیا۔ روٹ 99 گیندوں پر 61 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے جبکہ بروک 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس وقت کپتان بین اسٹوکس اور جو روٹ بیٹنگ کر رہے تھے۔
