رباط — سری لنکا، بنگلادیش اور نیپال کے بعد اب مراکش میں بھی نوجوانوں کی قیادت میں حکومت مخالف تحریک زور پکڑنے لگی ہے، جس کی بڑی وجہ بدعنوانی اور عوامی وسائل کے غیر شفاف استعمال پر غصہ بتایا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ احتجاج ابتدائی طور پر پُرامن تھے لیکن پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال پر کشیدگی بڑھ گئی۔ جنوبی شہر اگادیر کے قریب واقع قصبے لقلیا میں براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں مزید تین مظاہرین جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 7 ہو گئی ہے۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے نہتے افراد پر گولیاں برسائیں، تاہم وزارتِ داخلہ کا مؤقف ہے کہ کچھ مشتعل مظاہرین پولیس سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب تک ایک ہزار سے زائد مظاہرین گرفتار اور سیکڑوں زخمی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
وزیراعظم عزیز اخنوش نے احتجاجی قیادت کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے، مگر احتجاجی لہر کے تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
یہ تحریک GenZ 212 نامی نوجوانوں کے ایک نئے گروپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ڈسکارڈ کے ذریعے منظم کی ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ حکومت 2030 ورلڈ کپ کے لیے اربوں ڈالرز اسٹیڈیم اور انفراسٹرکچر پر لگا رہی ہے جبکہ عوام تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
احتجاجی نعروں میں سب سے زیادہ گونجنے والا نعرہ ہے: “اسٹیڈیم تو بن گئے، اسپتال کہاں ہیں؟”
ماہرین کے مطابق مراکش کی یہ تحریک خطے میں حالیہ عوامی بغاوتوں جیسے بنگلادیش، سری لنکا اور نیپال سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں عوامی دباؤ نے کرپٹ حکومتوں کے خاتمے اور شفاف سیاسی عمل کی راہ ہموار کی۔
