نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا۔
امریکی خلائی ادارہ ناسا نے انکشاف کیا ہے کہ الاسکا کے ساحل پر ایک نیا جزیرہ وجود میں آ چکا ہے۔ یہ جزیرہ دراصل ایک پہاڑ ہے جو پہلے السیک گلیشیئر کے اندر موجود تھا، لیکن برفانی تودہ تیزی سے پگھلنے کے بعد یہ پہاڑ اب پانی میں الگ تھلگ کھڑا ہے۔
سیٹلائٹ شواہد: ناسا نے 1984 اور 2025 کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ جاری کیا ہے جن سے واضح ہوتا ہے کہ گلیشیئر تقریباً 5 کلومیٹر پیچھے ہٹ چکا ہے۔ اس تبدیلی نے پہاڑ کو گلیشیئر سے جدا کر کے ایک نئے جزیرے کی شکل دے دی۔
جزیرے کی موجودہ حیثیت: پہاڑ اب السیک جھیل کے وسط میں واقع ہے اور چاروں طرف سے پانی نے اسے گھیر رکھا ہے۔ ناسا کے مطابق یہ مکمل طور پر ایک الگ جغرافیائی وجود اختیار کر چکا ہے۔
علاقے کی حالت: اس خطے میں گلیشیئرز کی تیز رفتار پگھلاؤ نہ صرف جغرافیہ بدل رہا ہے بلکہ مقامی ماحولیات پر بھی اثر ڈال رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کا اس قدر تیزی سے پیچھے ہٹنا موسمیاتی تبدیلی کی سنگین نشانی ہے۔
نئی جغرافیائی تبدیلیاں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ مستقبل میں مزید پہاڑ اور زمین کے ٹکڑے پانی میں ڈوب کر جزیرے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ واقعہ صرف الاسکا تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بھی ایسی ہی مثالیں سامنے آ رہی ہیں، جو عالمی درجہ حرارت کے بڑھنے کی تصدیق کرتی ہیں۔
پس منظر
گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی سطح پر درجہ حرارت میں مستقل اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف گلیشیئرز تیزی سے ختم ہوں گے بلکہ سمندری سطح بھی بلند ہو کر ساحلی علاقوں کے لیے خطرہ بنے گی۔
ناسا کے ماہرین کے مطابق یہ نیا جزیرہ ایک علامت ہے کہ زمین کے قدرتی مناظر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور یہ تبدیلیاں انسانوں کے لیے بڑے چیلنجز لے کر آ سکتی ہیں۔
الاسکا میں دریافت ہونے والا یہ نیا جزیرہ صرف ایک قدرتی حیرت نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی سنگین حقیقت کا اشارہ ہے۔ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا نہ صرف زمین کے جغرافیے کو بدل رہا ہے بلکہ انسانوں اور ماحول دونوں کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ برسوں میں مزید ایسی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں جو ہماری زمین کے نقشے کو یکسر بدل دیں گی۔
