سنگاپور: عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتیں ایک ڈالر فی بیرل سے زیادہ کم ہوگئیں، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے متوقع اعلان سے قبل منافع حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ نئی پابندیوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 1.23 ڈالر یا 1.3 فیصد کمی کے بعد 93.16 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.36 ڈالر یا 1.6 فیصد کمی کے بعد 85.70 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ ہوا تھا اور دونوں میں 5 فیصد سے زیادہ تیزی ریکارڈ کی گئی۔ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہوئی، جو عالمی تیل کی فراہمی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف سخت ترین اقتصادی پابندیوں کے اعلان کا عندیہ دیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ممالک پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے اجناس کے تجزیہ کار وویک دھر نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی پالیسی کس حد تک مؤثر ثابت ہوگی۔ تاہم ان کے مطابق اگر یہ اقدامات کامیاب ہوئے تو ایران کی جانب سے مزید سخت ردعمل توانائی کی عالمی منڈی کے لیے اضافی خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
ایران نے نئی امریکی پابندیوں کے منصوبے کی مذمت کی ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تنازع کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
آئی جی مارکیٹس کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق ایرانی قیادت کے نسبتاً معتدل حلقے کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں، جبکہ سخت گیر عناصر آخری حد تک مقابلہ کرنے کے حق میں ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق رواں ہفتے کے اختتام تک اس بارے میں زیادہ واضح اندازہ ہوجائے گا کہ ایرانی قیادت میں کس مؤقف کو برتری حاصل ہے۔
تجارتی ذرائع کے مطابق چینی خریداروں کو ایرانی خام تیل کی پیشکشوں میں کمی آئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکی پابندیوں اور رکاوٹوں کے باعث ایران کی تیل کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تہران نے بغداد کی بار بار درخواستوں کے بعد بعض عراقی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان تنازع برقرار رہا تو مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں بحالی توقع سے زیادہ وقت لے سکتی ہے۔
مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی فراہمی مزید محدود ہورہی ہے، جبکہ سمندر میں موجود تیل کے ذخائر اور چین سمیت مختلف ممالک میں زمینی ذخائر میں بھی کمی دیکھی جارہی ہے۔
ان کے مطابق سپلائی میں کمی کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ سے کم ہونے والی برآمدات ہیں، اور متعدد اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی مجموعی تیل برآمدات مارچ اور اپریل کی سطح کے قریب واپس آگئی ہیں۔
