بھارتی فلم انڈسٹری کے لیجنڈری اداکار دھرمیندر کے انتقال کی خبر نے پورے خطے کو افسردہ کر دیا۔ ممبئی میں 89 سال کی عمر میں ان کا انتقال ایک ایسے دور کے خاتمے کا اعلان ہے جس میں وہ چھ دہائیوں تک سینما کا لازمی حصہ رہے۔
دھرمیندر گزشتہ کچھ عرصے سے صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے تھے۔ اپنی 90ویں سالگرہ سے صرف چند ہفتے پہلے ان کی وفات نے مداحوں، فنکاروں اور فلمی دنیا کے بڑے ناموں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔
سرحد کے دونوں جانب سے خراجِ عقیدت
اس خبر کے سامنے آتے ہی بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی سوگ کی کیفیت نظر آئی۔ یہ وہی اثر ہے جو کم ہی فنکار چھوڑ پاتے ہیں — ایسا اثر جو سرحدوں سے بھی آگے نکل جائے۔
ماہرہ خان نے انسٹاگرام پر دھرمیندر کی پرانی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان کی فنکاری کو سراہا اور لکھا کہ بعض لوگ صرف اداکار نہیں ہوتے، ایک احساس بن جاتے ہیں۔
عدنان صدیقی نے جذباتی پیغام میں کہا کہ دھرمیندر کی شخصیت میں “نرمی، خوبصورتی اور آنکھوں کی وہ چمک” ایسی تھی جو آج بھی نہیں بھولی جا سکتی۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ دھرمیندر نے اداکاری کو ہمیشہ آسان اور دلکش انداز میں پیش کیا۔
دیگر پاکستانی فنکاروں نے بھی انہیں ایک ایسی شخصیت قرار دیا جو دونوں ملکوں کے ناظرین کو یکساں طور پر عزیز تھی۔
ایک ایسا ستارہ جو مٹتا نہیں
60 سال سے زائد فلمی سفر، 300 سے زیادہ فلمیں، اور کرداروں کی وہ رینج جس میں ایکشن سے لے کر کامیڈی اور رومانس تک سب کچھ شامل تھا — دھرمیندر صحیح معنوں میں ایک ہمہ جہت فنکار تھے۔
شعلے، چپکے چپکے، سیتا اور گیتا اور بے شمار فلمیں آج بھی گھروں میں دیکھی جاتی ہیں۔ ان کی اسکرین پر موجودگی میں ایک سادگی تھی، ایک بےساختگی جو شائد آج کے دور میں کم دکھائی دیتی ہے۔
وہ ویڈیو جو پھر وائرل ہوئی
وفات کے بعد ایک پرانا کلپ دوبارہ وائرل ہوا جس میں دھرمیندر پاکستان کو محبت سے “موسی ماں” کہتے ہیں۔ اس ویڈیو نے بہت سے لوگوں کو یاد دلایا کہ کبھی فن اور فنکار دونوں ملکوں کے درمیان ایک نرم سی ڈور تھے۔
ایک دور کا اختتام
امیتابھ بچن نے لکھا کہ دھرمیندر کی موت “ایک ایسی خاموشی چھوڑ گئی ہے جو تکلیف دیتی ہے۔”
یہ جملہ شاید بڑھا چڑھا کر نہیں کہا گیا — ان جیسے فنکار نسلوں کے جذبات اور یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ان کی فلموں پر خصوصی پروگرام، دوبارہ نمائشیں اور تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ دھرمیندر جیسے لوگ محض تاریخ کا حصہ نہیں بنتے، وہ زندہ رہتے ہیں — اپنے کام، اپنے انداز اور اپنی محبت کے ذریعے۔
