پشاور / سوات / گلگت / مظفرآباد – شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں گزشتہ 48 گھنٹوں میں 320 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کے باعث مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر
خیبر پختونخوا میں جاں بحق افراد کی تعداد 321 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں بونیر میں ہوئیں جہاں 184 افراد جاں بحق ہوئے۔ سوات، مانسہرہ، باجوڑ اور بٹگرام میں بھی کئی اموات اور شدید نقصان رپورٹ ہوا ہے۔
صوبائی حکومت نے نو اضلاع کو آفت زدہ قرار دے کر 50 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ بونیر کے لیے 1 کروڑ 50 لاکھ، جبکہ باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کے لیے 1 کروڑ روپے فی ضلع مختص کیے گئے ہیں۔ تقریباً 2,000 ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
ریسکیو ترجمان بلال احمد فایزی کے مطابق:
"زیادہ تر سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے ٹیمیں پیدل دور دراز علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔ بہت سے متاثرین اپنے پیاروں کی لاشوں کے باعث گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں۔”
فوج کی مدد
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہدایت دی ہے کہ تباہ شدہ پلوں کی فوری مرمت اور جہاں ممکن ہو، عارضی پل قائم کیے جائیں۔ فوج نے اپنے ایک دن کا 600 ٹن راشن متاثرین کے نام کر دیا ہے۔
ہیلی کاپٹر حادثہ، یوم سوگ
مہمند میں امدادی ہیلی کاپٹر حادثے میں دو پائلٹس سمیت پانچ اہلکار جاں بحق ہوگئے جس پر خیبر پختونخوا میں یوم سوگ منایا گیا۔ حادثہ گھنے دھند کے باعث پیش آیا۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی صورتحال
آزاد کشمیر میں 11 اموات ہوئیں جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ اس دوران 417 مکانات کو نقصان پہنچا، 104 مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ نیلم ویلی میں پھنسے زیادہ تر سیاح محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں جبکہ نیلم ہائی وے بحال کر دی گئی ہے۔
گلگت بلتستان میں 12 افراد جاں بحق ہوئے۔ سکردو، شگر اور گانچھے میں کئی پل ٹوٹ گئے جبکہ ستپارہ پاور ہاؤس سمیت متعدد بجلی گھر بند ہونے سے علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔
قومی ردعمل
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بیرون ملک مصروفیات ملتوی کر دیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے نوجوانوں سے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے گورنر جی بی سے تعزیت کرتے ہوئے تعاون کی پیشکش کی۔
متاثرہ شاہراہوں اور پلوں کی مرمت جاری ہے۔ مانسہرہ-ناران-بابوسر روڈ سمیت کئی راستے جزوی طور پر بحال کر دیے گئے ہیں۔ پنجاب اور سندھ سے مشینری اور افرادی قوت بھیجی گئی ہے تاکہ بحالی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
یہ تباہی ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے باعث کتنی شدید خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ صرف خیبر پختونخوا میں 3,817 افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
