اسلام آباد/بحیرۂ روم — دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل پاکستانی شہریوں کی جان و مال کی حفاظت پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور حکومتِ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے فلوٹیلا کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کشتیوں کو روکنا بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے خلاف ہے اور پاکستان اس اقدام کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انسانی مشن اور عالمی یکجہتی کی علامت ہے، اور اسلام آباد قطری و دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ پاکستانی شہریوں کی فوری رہائی اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق فلوٹیلا میں شامل دو پاکستانیوں — سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اور سید عزیر نظامی — کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان سے آخری بار گزشتہ رات رابطہ ہوا تھا اور بعد ازاں رابطہ منقطع ہے۔ عزیر نظامی لاہور میں چھوٹا کاروبار کرتے ہیں اور دینی تعلیم و تربیت کے کاموں سے بھی منسلک ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یکم و دو اکتوبر کی درمیانی شب اسرائیلی فورسز نے بحیرۂ روم میں فلوٹیلا کے خلاف کارروائی کی اور تقریباً 37 ممالک کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ گلوبل صمود کے ترجمان سیف ابو کشیک کے مطابق 13 کشتیوں کو روکا گیا جن میں 200 سے زائد افراد سوار تھے، تاہم گروپ کا کہنا ہے کہ مجموعی مشن جاری ہے اور کم از کم چار کشتییں غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔
دفترِ خارجہ نے فنی یا آپریشنل تفصیلات کا ذکر نہیں کیا مگر واضح کیا کہ حکومتی سطح پر بین الاقوامی رابطے جاری ہیں تاکہ پاکستانی شہریوں کی حفاظت اور ممکنہ رہائی یقینی بنائی جا سکے۔
