اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان جلد ڈیجیٹل کرنسی کا پائلٹ منصوبہ شروع کرنے جا رہا ہے، جبکہ ملک میں ورچوئل اثاثوں کے لیے قانون سازی بھی مکمل کی جا رہی ہے۔
انہوں نے یہ بات سنگاپور میں رائٹرز نیکسٹ ایشیا سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ سری لنکا کے مرکزی بینک کے گورنر کے ساتھ ایک پینل میں شریک تھے۔
جمیل احمد کا کہنا تھا:
"ہم مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی پر اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں اور جلد اس کا پائلٹ لانچ متوقع ہے۔”
ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2025 اور خودمختار ریگولیٹر کی منظوری
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ایک خودمختار ریگولیٹری ادارہ قائم کیا جائے گا جو ملک میں کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو لائسنس اور نگرانی فراہم کرے گا۔
مملکتی وزیر برائے بلاک چین و کرپٹو، بلال بن ثاقب نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ملک کے مالیاتی نظام کو جدید بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
یہ قانون پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کی کاوشوں پر بھی استوار ہے، جو مارچ میں قائم کی گئی تھی۔ PCC نے اضافی بجلی کے ذریعے بٹ کوائن مائننگ پر کام شروع کیا ہے، Binance کے بانی چینگ پینگ ژاؤ کو مشیر مقرر کیا ہے، اور ریاستی سطح پر بٹ کوائن ذخائر قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
خطرات اور مواقع دونوں موجود ہیں: جمیل احمد
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں خطرات بھی ہیں اور مواقع بھی۔
"ہمیں ان خطرات کو سمجھداری سے سنبھالنا ہے، مگر مواقع سے بھی فائدہ اٹھانا ہے،” انہوں نے کہا۔
مئی میں اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی تھی کہ پاکستان میں ورچوئل اثاثے غیر قانونی نہیں ہیں، مگر اداروں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ باضابطہ لائسنسنگ فریم ورک کے بغیر اس میں شامل نہ ہوں۔
افراط زر میں کمی، سخت مالیاتی پالیسی
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پاکستان افراط زر پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھے گا تاکہ درمیانی مدت میں 5–7 فیصد کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
2023 میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو اب جون 2025 میں 3.2 فیصد رہ گئی ہے، اور حالیہ مالی سال میں اوسط 4.5 فیصد رہی — جو گزشتہ نو سال کی کم ترین سطح ہے۔
مرکزی بینک نے پچھلے ایک سال میں اپنی پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دی ہے۔
زرمبادلہ ذخائر اور آئی ایم ایف پروگرام
جمیل احمد کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو دو سال قبل 3 ارب ڈالر سے بھی کم تھے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا 7 ارب ڈالر کا پروگرام، جو ستمبر 2027 تک جاری ہے، ٹریک پر ہے، اور اس کے تحت توانائی قیمتوں، مالی اصلاحات اور ایکسچینج مارکیٹ میں بہتری لائی گئی ہے۔
فوجی ساز و سامان کی چین سے خریداری کی مالی منصوبہ بندی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
