اسلام آباد – 24 جون 2025: پاکستان نے خلیجی خطے میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایران کے میزائل حملے کے بعد قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ حملہ دوحہ کے قریب واقع امریکی فضائی اڈے "العدید ایئر بیس” پر کیا گیا تھا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے پیر کے روز اسلام آباد میں قطر کے سفیر علی مبارک علی عیسیٰ الخاطر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں انہوں نے حملے کو "افسوسناک واقعہ” قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے قطر کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
وزیرِاعظم نے زور دیا کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے فوری سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ تمام ممالک کے مفاد میں ہے”۔
قطری حکام کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل ان کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے روک لیے، اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ حملہ مبینہ طور پر ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملے کے جواب میں کیا گیا۔
وزیرِاعظم نے سعودی سفیر سے بھی رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
پاکستان کی فوری اور مؤثر سفارتی مداخلت ایک متوازن حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے، جس میں وہ خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کر رہا ہے۔
