کراچی: کراچی کے علاقے قیوم آباد میں 18 ماہ کے بچے کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر پاکستانی شوبز شخصیات نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے فوری انصاف، بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور والدین میں زیادہ آگاہی پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فریحہ الطاف، عدنان صدیقی، صنم بلوچ، مریم نفیس، ایمن خان، احسن خان، سرہا اصغر، زلے سرحدی اور عائشہ عمر سمیت متعدد معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور حکام سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنانے پر زور دیا۔
اداکارہ اور میزبان فریحہ الطاف نے بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے مسلسل سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین کو بچوں کی حفاظت کے معاملے میں مزید محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو بعض اوقات ایسے افراد سے بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جنہیں وہ اور ان کے والدین پہلے سے جانتے اور ان پر اعتماد کرتے ہیں، جن میں رشتہ دار، پڑوسی اور گھریلو ملازمین شامل ہو سکتے ہیں۔
فریحہ الطاف نے، جو ماضی میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کے بارے میں بھی بات کر چکی ہیں اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ساحل کی خیرسگالی سفیر بھی ہیں، والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی شکایات اور خدشات کو سنجیدگی سے لیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بچہ کسی نامناسب رویے یا واقعے کے بارے میں بات کرے تو اس کی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اداکار عدنان صدیقی نے بھی واقعے پر شدید صدمے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں سامنے آنے والی تفصیلات انتہائی پریشان کن ہیں۔ انہوں نے متاثرہ بچے کے لیے فوری اور بلاامتیاز انصاف اور سوگوار خاندان کے لیے حوصلے کی دعا کی۔
دیگر شوبز شخصیات نے بھی سوشل میڈیا پر بچوں کے تحفظ کے لیے زیادہ احتیاط اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت اجاگر کی۔
مریم نفیس نے والدین پر زور دیا کہ وہ موجودہ حالات میں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے زیادہ محتاط رہیں، جبکہ عائشہ عمر نے معاشرے کی مجموعی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اجتماعی طور پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
صنم بلوچ نے بھی ذمہ داروں کے احتساب اور متاثرہ خاندان کی حمایت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بچوں کے تحفظ کو معاشرے کی بنیادی ترجیحات میں شامل کرنے پر زور دیا۔
واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں اور معروف شخصیات کی جانب سے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دینے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر بچوں کے تحفظ، والدین میں آگاہی بڑھانے اور ایسے مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے جن کے ذریعے بچوں کو گھروں اور معاشرے میں ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے
