پاکستان کی نمائندہ روما ریاض، جو 74ویں مس یونیورس مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں، نے پھوکت، تھائی لینڈ میں ہونے والے مون لائٹ اسکائی گالا ویلکم ڈنر میں سلور بیج ساڑھی پہن کر حاضرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ یہ ہاتھ سے سجا ہوا لباس، جسے کنول ملک نے ڈیزائن کیا تھا، فوراً ہی مداحوں اور حاضرین کی نظریں کھینچ گیا۔
اگرچہ کئی لوگوں نے ان کے نفیس انداز کی تعریف کی، لیکن کچھ آن لائن ناقدین نے ان کے انتخاب پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ساڑھی روایتی طور پر ایک بھارتی لباس ہے۔ یہ بحث سوشل میڈیا پر جلد ہی زور پکڑ گئی۔
اس تنقید کے جواب میں، روما ریاض نے انسٹاگرام پر وضاحت دی اور کہا کہ ساڑھی پاکستان کی مشترکہ جنوبی ایشیائی ثقافت کا حصہ ہے۔ انہوں نے لکھا، "میں نے کچھ کمنٹس دیکھے جن میں پوچھا گیا کہ میں، مس یونیورس پاکستان کے طور پر، ساڑھی کیوں پہن رہی ہوں۔ ساڑھی سرحدوں کی ملکیت نہیں ہے۔”
ان کے بیان نے جنوبی ایشیا میں ثقافتی روابط کی وسیع تر تقریب کو اجاگر کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ فیشن اور ورثہ قومی سرحدوں سے بالاتر ہیں۔
