دسمبر 6، 2025
ویب ڈیسک
سابق جج سپریم کورٹ جسٹس ابھے ایس اوکا نے کہا کہ اگرچہ آئین ہر شہری کو سائنسی سوچ پیدا کرنے کا پابند بناتا ہے، مگر بھارت میں اب بھی سیاسی جماعتیں مذہبی حلقوں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق جو لوگ توہمات کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، انہیں سپورٹ کرنے کے بجائے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
نئی دہلی میں 16ویں وی ایم ٹارکنڈے میموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ توہم پرستی معاشرے، بنیادی حقوق، ماحول اور تعلیم کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی اور عقلی آوازوں کو اکثر غلط طور پر مذہب مخالف قرار دے کر خاموش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں، نظریے سے قطع نظر، مذہبی عقائد کا سامنا کرنے سے گھبراتی ہیں اور اسی وجہ سے اصلاحات متعارف نہیں کرتیں۔ یہ طرزِ عمل شہریوں میں سائنسی رجحان پیدا کرنے کی آئینی ذمہ داری کو کمزور کرتا ہے۔
جسٹس اوکا نے واضح کیا کہ مذہبی رسوم میں موجود توہمات کے خلاف لڑنا مذہب کے خلاف لڑنے کے مترادف نہیں۔ بلکہ ان کے مطابق غیر عقلی رسومات کے خاتمے سے مذہب مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توہم پرستی ہر مذہب میں موجود ہے اور اسے عقیدت کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
