ویٹیکن میں اس ہفتے کا منظر عام دنوں سے بہت مختلف ہوگا۔ سفارتکاروں یا مذہبی رہنماؤں کے بجائے اس بار Apostolic Palace کے دروازے سے وہ چہرے داخل ہوں گے جنہیں عام طور پر فلم پریمیئرز، ایوارڈ شوز یا ریڈ کارپٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ کیٹ بلانشیٹ، کرس پائن، ویگو مورٹینسن، الیسن بری، ڈیو فرانکو، اور اس کے ساتھ ساتھ اسپائیک لی، جارج ملر اور گس وین سینٹ جیسے نامور ہدایتکار—سب کو پوپ لیو چودھواں نے خصوصی ملاقات کے لیے مدعو کیا ہے۔
یہ اجلاس، جس کی تصدیق ویٹیکن اور بین الاقوامی میڈیا نے کی ہے، ہولی ایئر کی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ لیکن اس ملاقات کا رنگ عام مذہبی تقریبات سے مختلف ہے۔ پاپائے روم ماضی میں مشہور شخصیات سے ملتے رہے ہیں، مگر اس بار معاملہ براہِ راست فلم، تخلیق اور کہانی گوئی کے شعبے سے جڑا ہے—جس سے واضح پیغام ملتا ہے کہ پوپ لیو چودھواں چرچ اور جدید ثقافت کے درمیان دوری کم کرنا چاہتے ہیں، اسے نظرانداز نہیں کرنا۔
امریکہ میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ، لیو XIV، کئی بار کہہ چکے ہیں کہ فنونِ لطیفہ اور کہانیوں میں انسانی اقدار کو پھیلانے کی بے پناہ طاقت ہوتی ہے۔ ویٹیکن کے مطابق، اس نشست کا مقصد یہ ہے کہ فلم ساز اور چرچ مل کر یہ دیکھیں کہ تخلیقی صلاحیتیں کس طرح انسانی وقار اور سماجی بھلائی کے پیغامات کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔
ہالی ووڈ میں اس دعوت نامے کو حیرت اور دلچسپی کے ملے جلے جذبات سے دیکھا جا رہا ہے۔ کیٹ بلانشیٹ، جو سماجی اور انسانی مسائل میں کھل کر آواز اٹھاتی رہی ہیں، کے لیے یہ ملاقات بہت فطری محسوس ہوتی ہے۔ کرس پائن کا نام کچھ لوگوں کے لیے غیر متوقع تھا، مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ ویٹیکن نے “متنوع اور اثر رکھنے والی آوازوں” کو مدعو کیا ہے، نہ کہ صرف مذہبی پس منظر والے فنکاروں کو۔
اس ملاقات سے چند روز قبل ویٹیکن نے پوپ کی پسندیدہ فلموں کی فہرست بھی جاری کی—اِٹس اے ونڈر فُل لائف، دی ساؤنڈ آف میوزک، آرڈنری پیپل اور لائف اِز بیوٹی فل—جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں امید، جدوجہد، نجات اور انسانی دکھ درد پر مبنی کہانیاں کیوں پسند ہیں۔
اب سب کی نظریں بند کمرے میں ہونے والی گفتگو پر ہیں۔ کیا چرچ فلمی صنعت کے ساتھ کسی قسم کا تعاون قائم کرنے کی کوشش کرے گا؟ کیا تخلیقی منصوبوں یا سماجی مہمات پر مشترکہ کام سامنے آئے گا؟ یا یہ نشست صرف خیالات کے تبادلے تک محدود رہے گی؟ فی الحال کچھ بھی طے نہیں۔
چرچ کے اندر بھی اس پر مختلف رائے موجود ہے۔ کچھ لوگ اسے دورِ جدید سے جڑنے کی اہم کوشش سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ محتاط ہیں کہ یہ شراکت کس سمت جائے گی۔ مگر بہت سے نوجوان کیتھولک اس کو مثبت قدم قرار دے رہے ہیں—وہ اسے چرچ اور عالمی ثقافت کے درمیان متعلقہ اور بامعنی مکالمہ سمجھتے ہیں۔
یہ ایک بار کا اجلاس ہو یا مستقبل میں بڑے سلسلے کا آغاز—پیغام پھر بھی واضح ہے: پوپ لیو چودھواں چاہتے ہیں کہ ایمان اور فن الگ دنیاؤں میں نہ رہیں۔ اور کم از کم اس ہفتے، وہ ایک ہی چھت کے نیچے ہوں گے۔
