اسلام آباد – الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم کا اعلان کر دیا، جس کے بعد حکومتی اتحاد نے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
ای سی پی کی جانب سے قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو 13، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو 4 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 2 مخصوص نشستیں دی گئیں۔
یہ فیصلہ اُس عدالتی حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جولائی 2024 کے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں دی گئی تھیں۔ نئے فیصلے میں پی ٹی آئی کو پارلیمانی جماعت تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد اس کے مخصوص نشستوں پر حق کو ختم کر دیا گیا۔
دو تہائی اکثریت حاصل
نئی نشستوں کی تقسیم کے بعد حکومتی اتحاد کے پاس اب 336 رکنی ایوان میں 235 نشستیں ہو گئی ہیں — جب کہ دو تہائی اکثریت کے لیے 224 نشستیں درکار تھیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اپوزیشن کے پاس اب صرف 98 نشستیں ہیں، ایک رکن معطل اور دو مخصوص نشستیں تاحال خالی ہیں۔
صوبائی اسمبلیوں میں بھی نشستوں کی تقسیم
ای سی پی نے چاروں صوبوں کی اسمبلیوں میں بھی مخصوص نشستیں تقسیم کیں:
-
خیبر پختونخوا: جے یو آئی (ف) کو 10، ن لیگ کو 7، پی پی پی کو 6 جبکہ پی ٹی آئی-پارلیمنٹرینز اور اے این پی کو ایک ایک نشست دی گئی۔
-
پنجاب اسمبلی: ن لیگ کو 23، پی پی پی کو 2، مسلم لیگ (ق) اور استحکامِ پاکستان پارٹی کو ایک ایک نشست ملی۔
-
سندھ اسمبلی: پی پی پی کو 2، ایم کیو ایم پاکستان کو ایک نشست دی گئی۔
کیس کا پس منظر
یہ تمام کارروائی پشاور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کے بعد عمل میں آئی ہے جو 25 مارچ 2024 کو دیا گیا تھا، جس میں پی ٹی آئی سے منسلک آزاد امیدواروں کو، جو بعد ازاں سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے، مخصوص نشستوں سے محروم کر دیا گیا تھا۔
ابتداء میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل احمد عباسی نے پی ایم ایل-ن، پی پی پی اور ای سی پی کی نظرثانی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، تاہم بعد ازاں ان کے نام بینچ سے خارج کر دیے گئے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی رائے میں کہا کہ پی ٹی آئی کو 39 نشستیں ملنی چاہئیں، مگر ان کی رائے اکثریتی فیصلے کا حصہ نہیں بنی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ 80 کامیاب امیدواروں کی جماعتی
