خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل خار میں بدھ کے روز ہونے والے خوفناک بم دھماکے نے پورے علاقے کو لرزا کر رکھ دیا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر نواغئی فیصل اسماعیل سمیت پانچ افراد شہید ہو گئے۔
ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی خان کے مطابق یہ حملہ میلہ گراؤنڈ کے قریب پھاٹک میلہ کے علاقے میں کیا گیا، جس میں ایک سرکاری گاڑی کو ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے نشانہ بنایا گیا۔
شہید ہونے والوں میں تحصیلدار عبد الوکیل، دو پولیس اہلکار اور ایک راہ گیر شامل ہیں، جبکہ 11 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں پانچ پولیس اہلکار شامل ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس حملے میں کالعدم تنظیم خوارج کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں اور انسداد دہشتگردی کی خصوصی ٹیم تحقیقات میں مصروف ہے۔
اعلیٰ قیادت کی شدید مذمت
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: "ایسے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ حکومت اور عوام دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔”
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور دہشتگردوں کو انسانیت کا دشمن قرار دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا: "ہمارے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔”
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کو ہندوستانی سازش قرار دیتے ہوئے کہا: "یہ حملہ فتنہ ہندستان کی پشت پناہی میں ہوا، مگر ہم ان سازشوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔”
قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
نمازِ جنازہ اور عوامی سوگ
شہداء کی نمازِ جنازہ باجوڑ پولیس لائنز میں ادا کی گئی، جس میں اعلیٰ سول اور پولیس افسران، مقامی عمائدین، شہداء کے اہلخانہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جنازے کا اجتماع عوامی اتحاد اور دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کی ایک علامت بن گیا۔
