شرح نمو کو ابتدائی تخمینے 2.68 فیصد سے بڑھا کر 3.04 فیصد کر دیا ہے۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (NAC) کے 114ویں اجلاس میں جاری اعداد و شمار کے مطابق، اپریل تا جون (چوتھی سہ ماہی) میں معیشت نے 5.66 فیصد کی شاندار نمو ریکارڈ کی، جو پورے مالی سال میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے مجموعی معاشی نمو میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی معیشت کا حجم اب 407.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی بڑھ کر 1,812 ڈالر ہو گئی ہے۔
صنعتی شعبے میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے جس میں 19.95 فیصد کی ترقی ریکارڈ ہوئی۔ خاص طور پر بڑی صنعتوں، معدنیات اور بجلی، گیس و پانی کی فراہمی کے شعبے میں غیر معمولی 121 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجوہات میں حکومتی سبسڈیز، قیمتوں میں کمی، اور گزشتہ سال کی کم بنیاد شامل ہیں۔
زرعی شعبے میں اگرچہ اہم فصلوں میں 17.55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم دیگر فصلوں، مویشی پالنے، جنگلات اور ماہی گیری میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔
خدماتی شعبے (Services) کی ترقی 3.72 فیصد رہی، جو ملکی معیشت کے استحکام کی علامت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظرِثانی شدہ اعداد و شمار پاکستان کی معیشت میں بتدریج استحکام اور بحالی کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم مہنگائی، بیرونی قرضوں اور مالی دباؤ جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔
