نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ اقوام متحدہ کے دورے کے دوران شمع جونیجو کی موجودگی پر اٹھنے والے سوالات نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ شمع جونیجو نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خود وزیراعظم نے باقاعدہ طور پر وفد میں بطور مشیر شامل کیا تھا۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب وزیر دفاع خواجہ آصف نے ان کے کردار کو محدود ظاہر کیا، حالانکہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی نظر آئیں۔
اپنے بیان میں شمع جونیجو نے کہا کہ وہ کئی ماہ سے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ کام کر رہی ہیں، حتیٰ کہ پاک-بھارت جنگ کے دوران ان کی پالیسی بریفنگز اور تجاویز ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے ذاتی طور پر انہیں اقوام متحدہ کی تقریر تیار کرنے کی ذمہ داری دی اور بطور مشیر ان کا سیکیورٹی پاس بھی جاری کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وزیراعظم کی ٹیم کے ساتھ ہوٹل میں قیام پذیر رہیں، بل گیٹس سے ملاقات سمیت اہم اجلاسوں میں شریک ہوئیں اور کئی مواقع پر وزراء کے ساتھ بیٹھیں۔ “پروٹوکول ٹیم نے مجھے رسائی دی اور میں وفد کا باقاعدہ حصہ رہی،” ان کا کہنا تھا۔
شمع جونیجو نے واضح کیا کہ وزیراعظم کی تقریر ٹیم ورک کا نتیجہ تھی، نہ کہ کسی ایک فرد کی محنت۔ انہوں نے سوال اٹھایا: “خواجہ آصف ایسے بیانات کیوں دے رہے ہیں اور کس ایجنڈے کے تحت حکومت کے تاریخی دورے کو متنازع بنا رہے ہیں؟ یہ وزیراعظم کے اختیار کو چیلنج کرنا ہے، میرا نہیں۔”
