شدید بارشوں، سیلاب اور ہیٹ ویوز نے ملک کو موسمیاتی خطرات کی فہرست میں اور اوپر پہنچا دیا
جرمن واچ کے جاری کردہ کلائمٹ رسک انڈیکس 2026 کے مطابق تھائی لینڈ اب دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک کی رینکنگ 2022 میں 72 تھی جو اب بڑھ کر 17 ہوگئی ہے، جو بڑھتے ہوئے سیلاب، ہیٹ ویوز اور طوفانوں کی سنگین صورتحال کی علامت ہے۔
جنوبی تھائی لینڈ میں تباہ کن بارشیں
گزشتہ ہفتے ہیٹ یائی (Songkhla) میں تاریخی بارش ریکارڈ کی گئی، جہاں ایک ہی دن میں تقریباً 335 ملی میٹر بارش ہوئی — ایسا واقعہ پچھلی 300 سال میں نہیں دیکھا گیا۔ اس طوفانی بارش نے نشیبی علاقے ڈبو دیے، گھروں، سڑکوں اور اسپتالوں کو شدید نقصان پہنچایا اور ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔
حکام کے مطابق متاثرہ شہروں میں ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی جبکہ معاشی سرگرمیاں بھی مفلوج ہو گئ
شدید موسمی خطرات کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر حکومت نے:
فلڈ مینجمنٹ اور ایمرجنسی ریسپانس کو بہتر بنانے
ارلی وارننگ سسٹم کو اپ گریڈ کرنے
شہری و دیہی علاقوں میں پانی کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے
ساتھ ہی تھائی لینڈ کا 2050 تک کاربن نیوٹرل ہونے کا منصوبہ بھی جاری ہے، جس کے لیے اخراج میں کمی اور ماحولیاتی موافقت کی حکمت عملی نافذ کی جا رہی ہے۔
مستقبل کا بڑھتا ہوا خطرہ
کلائمٹ رسک انڈیکس گذشتہ 30 سال کے دوران ہونے والی موسمی آفات کے انسانی اور معاشی نقصانات کی بنیاد پر ممالک کی درجہ بندی کرتا ہے۔ تھائی لینڈ کی درجہ بندی کا اچانک بڑھ جانا اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ:
> “شدید موسمی واقعات اب نئے معمول کا حصہ بن چکے ہیں”
اگر موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز پر فوری عمل نہ کیا گیا تو سیلاب، ہیٹ ویوز اور موسمی طوفان مزید تباہ کن شکل اختیار کرسکتے ہیں — جن کا براہ راست اثر معیشت، صحت اور شہری زندگی پر پڑے گا۔
