اکتوبر 28، 2025
ویب ڈیسک
صدیوں سے یہ مانا جاتا رہا ہے کہ پورا چاند انسان کے مزاج اور نیند پر اثر ڈالتا ہے۔ مگر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی جادوئی طاقت نہیں بلکہ روشنی کا معمولی فرق ہے۔ پورے چاند کی تیز روشنی رات کے وقت نیند کے قدرتی چکر میں خلل ڈال سکتی ہے، خاص طور پر اُن زمانوں میں جب مصنوعی روشنی عام نہیں تھی۔
دیگر نظریات، جیسے کہ چاند کی کششِ ثقل یا مقناطیسی تبدیلیاں، سائنسی لحاظ سے درست ثابت نہیں ہوئے۔ انسان کے جسم پر چاند کے سمندری اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ ماحولیاتی یا فضائی تبدیلیوں پر ہونے والی تحقیقات میں بھی کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا۔
ماہرِ نفسیات کہتے ہیں کہ "فل مون ایفیکٹ” دراصل ایک وہم ہے، جسے illusory correlation کہا جاتا ہے — لوگ اُن راتوں کو یاد رکھتے ہیں جب چاند کے ساتھ کوئی غیر معمولی بات ہوئی ہو، مگر وہ عام راتیں بھول جاتے ہیں جب کچھ نہیں ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ نیند پر سب سے زیادہ اثر مصنوعی روشنی کا ہوتا ہے موبائل، اسٹریٹ لائٹس یا اسکرینوں سے آنے والی روشنی ہماری جسمانی گھڑی کو بگاڑ دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ہم مستقل معیاری وقت (Standard Time) پر رہیں تو نیند اور صحت دونوں بہتر رہ سکتی ہیں۔
