امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان "مکمل اور مکمل جنگ بندی” پر اتفاق ہو گیا ہے، یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب ایران نے امریکی جوہری تنصیبات پر حملے کے جواب میں قطر میں واقع امریکی اڈے پر محدود میزائل حملہ کیا۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر کیا، اور کہا کہ جنگ بندی منگل کی آدھی رات (ایسٹرن ٹائم) سے نافذ ہو جائے گی، جس سے جنگ کا "سرکاری خاتمہ” ہوگا۔
ایرانی مؤقف البتہ محتاط ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ تاحال کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا، لیکن اگر اسرائیل نے صبح 4 بجے تک حملے روک دیے تو ایران مزید کارروائی نہیں کرے گا۔ یہ بیان اُس وقت دیا گیا جب مذکورہ وقت گزر چکا تھا۔
اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر جنگ بندی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران پر فضائی حملے صبح 4 بجے تک جاری رہے، اس کے بعد مزید کوئی کارروائی رپورٹ نہیں ہوئی۔
یہ پیش رفت ان دنوں میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر رہی۔ ایران نے پیر کو قطر میں امریکی اڈے "العدید” پر میزائل داغے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران نے حملے سے پہلے امریکا کو خبردار کر دیا تھا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ قطر نے حملے کو اپنی خودمختاری کی "واضح خلاف ورزی” قرار دیا۔
ایران کا کہنا تھا کہ یہ حملہ امریکا کے بمباری حملوں کی شدت کے برابر تھا۔ قطری میجر جنرل شایق الحجری کے مطابق ایران نے 19 میزائل داغے، جن میں سے 18 کو روکا گیا۔
اسرائیل میں شہری پناہ گاہوں میں چلے گئے جب ایران نے حیفا اور تل ابیب سمیت شہروں کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب اسرائیلی فضائی حملوں نے تہران میں ایوین جیل سمیت کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔
اگرچہ دونوں ممالک میں بمباری کا تبادلہ ہوا، لیکن دونوں جانب سے کشیدگی کم کرنے کے اشارے بھی دیے گئے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ "ہم نے جنگ کی شروعات نہیں کی، لیکن جواب ضرور دیں گے۔”
صدر ٹرمپ نے ایک موقع پر ایرانی حکومت کی تبدیلی کی بھی بات کی، جس پر وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ وہ محض "سوال اٹھا رہے تھے۔”
صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے دعوے کے باوجود اسرائیل نے حملے جاری رکھے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کو "بلاجواز جارحیت” قرار دیا۔
اس جنگ میں اب تک اسرائیل میں 24 اور ایران میں 974 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ امریکا نے اسرائیل سے امریکی شہریوں کا انخلا شروع کر دیا ہے۔
