واشنگٹن میں جمعہ کے روز ہونے والی وہ ملاقات، جسے زیادہ تر لوگ سخت سیاسی تناؤ کا لمحہ سمجھ رہے تھے، حیرت انگیز طور پر بالکل مختلف ثابت ہوئی۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو کبھی زوہران ممدانی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے تھے، اس ملاقات میں غیر معمولی طور پر نرم، خوشگوار اور حیرت انگیز حد تک دوستانہ دکھائی دیے۔
اور بس… اتنا کافی تھا کہ X (سابقہ ٹوئٹر) پر مزاح، میمز اور حیرت بھرے تبصرے ایک ساتھ پھٹ پڑے۔
ٹرمپ اور نیویارک سٹی کے میئر الیکٹ زوہران ممدانی کی یہ ملاقات بنیادی طور پر رہائش، مہنگائی، عوامی تحفظ اور شہری مسائل پر مرکوز تھی، لیکن ماحول کچھ ایسا تھا جیسے دونوں پرانے مخالف نہیں بلکہ پرانے واقف کار ہوں۔
چند ماہ پہلے تک تلخ بیانات — آج گرمجوشی؟
یہ تبدیلی خاصی غیر معمولی ہے کیونکہ اس سے قبل دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سخت تنقید کی ہوئی تھی۔
ٹرمپ نے ممدانی کو “کمیونسٹ پاگل” تک کہا تھا، جبکہ ممدانی نے ٹرمپ کو “ظالم” اور کئی پالیسیوں کے لیے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
مگر کیمرے پر جو نظر آیا، وہ اس کے بالکل برعکس تھا — ٹرمپ مسکراتے رہے، آگے جھک کر بات کرتے رہے، اور ممدانی بڑے پُرسکون انداز میں سب سن رہے تھے۔ بہت سے تجزیہ کاروں نے اس لمحے کو “غیر فطری حد تک دوستانہ” قرار دیا۔
ایک ٹی وی میزبان نے تو ہنستے ہوئے یہ بھی کہا کہ "لگتا ہے جے ڈی وینس کو حسد ہونے لگا ہے”۔
X کی دنیا پاگل ہوئی پڑی — میمز، طنز اور حیرت
ملاقات کے چند منٹ بعد ہی X پر غیر معمولی ردِعمل آیا۔
-
“ایسا شخص ڈھونڈو جو تمہیں ایسے دیکھے جیسے ٹرمپ زوہران کو دیکھ رہے تھے۔”
-
“دشمنوں سے دوست؟ امریکی سیاست کا نیا سیزن!”
-
“یہ 2025 کی اسکرپٹ میں نہیں تھا!”
ایک مشہور پوسٹ میں ٹرمپ کی نرمی بھری تصویر کے ساتھ کیپشن تھا:
“سِمِٹن… بالکل سِمِٹن۔”
(یعنی ٹرمپ ممدانی سے خاصے متاثر نظر آئے۔)
لیکن ہنسی مذاق کے پیچھے ایک سنجیدہ حقیقت بھی تھی
ملاقات کے دوران پالیسی سطح پر حیرت انگیز اتفاق رائے سامنے آیا۔
ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ممدانی کی کئی تجاویز “اتنی مختلف نہیں جتنی وہ سمجھ رہے تھے۔”
دوسری طرف، ممدانی نے واضح کیا کہ وہ نیویارک کے مفاد میں کسی کے ساتھ بھی کام کرنے کو تیار ہیں — چاہے سیاسی نظریات کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں۔
البتہ انہوں نے غزہ پر اپنی پوزیشن بالکل نہیں بدلی۔ ٹرمپ کے برابر کھڑے ہو کر انہوں نے اسے پھر “نسل کشی” قرار دیا، جس نے ایک الگ بحث بھی چھیڑ دی۔
اس ملاقات کے ممکنہ اثرات
ٹرمپ کے لیے:
-
یہ حکمتِ عملی ہو سکتی ہے — نیویارک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا سیاسی فائدہ بھی دے سکتا ہے۔
-
یا پھر وہ واقعی ممدانی کی خود اعتمادی اور انداز سے متاثر ہوئے ہوں۔
ممدانی کے لیے:
-
یہ بڑی سیاسی مہارت کا لمحہ تھا — مخالف سے ہاتھ ملانا، اصول پر قائم رہنا، اور پھر بھی مثبت نتائج کا امکان پیدا کرنا۔
سیاسی منظرنامے کے لیے:
-
یہ لمحہ شاید واشنگٹن کی بدلتی سیاست کا اشارہ ہو… یا صرف ایک دن کا غیر معمولی واقعہ۔ کوئی ابھی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔
اصل سوال یہ ہے… کیا یہ دوستی قائم رہے گی؟
یہ سب مستقل تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ہے یا صرف ایک عجیب، مگر یادگار لمحہ تھا — وقت ہی بتائے گا۔
فی الحال تو اتنا طے ہے کہ ٹرمپ کا اس قدر نرم پڑ جانا، اور ممدانی کی اعتماد بھری موجودگی، پوری دنیا کی توجہ کھینچ لائی ہے۔
اور X؟
وہ تو ابھی تک ہنسے جا رہا ہے۔
