دوحہ فلم فیسٹیول کا پندھرویں ایڈیشن اس سال روایتی سرخ قالین یا ہالی ووڈ چمک دمک کے بجائے ایک گہری اور جذباتی کہانی سے شروع ہوا۔ افتتاحی تقریب میں فلم "دی وائس آف ہند رجب” کی نمائش کی گئی — وہی ہند رجب جس کی آخری فون کالز نے 2024 میں دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
یہ فلم تیونس کی معروف فلم ساز کاؤثر بن ہنیہ نے ڈائریکٹ کی ہے، اور اس میں ہند کی اصل آڈیو ریکارڈنگز استعمال کی گئی ہیں۔ فلم ہند کی وہ لمحہ بہ لمحہ پکار سامنے لاتی ہے جب وہ غزہ میں اپنی گاڑی میں پھنسے ہوئے مدد مانگ رہی تھی، جبکہ اس کے خاندان کے کئی افراد پہلے ہی حملے میں جاں بحق ہو چکے تھے۔
اسکریننگ کے دوران جذبات اُس وقت اور بھی گہرے ہوگئے جب ہند کی والدہ نے اسٹیج پر آکر ناظرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے نم آواز میں کہا:
“میری بیٹی مر چکی ہے، مگر میں ہر روز اس کی آواز سنتی ہوں۔ میری بیٹی کی آواز، غزہ کے ہر بچے کی آواز ہے۔”
ہال کچھ لمحوں کے لیے مکمل طور پر خاموش ہو گیا۔
فیسٹیول کے لیے اس فلم کی اہمیت
اس فلم کو افتتاحی اسکریننگ کے لیے منتخب کرنا ایک واضح پیغام تھا:
یہ فیسٹیول صرف فن اور تفریح تک محدود نہیں، بلکہ انسانیت اور حقیقت پر بات کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
فلم اس سے قبل وینس فلم فیسٹیول میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہے جہاں اسے طویل کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر سراہا گیا۔ ناقدین نے اسے بےحد طاقتور، حقیقت کے قریب اور جذباتی طور پر ہلا دینے والا قرار دیا۔
دوحہ میں ناظرین کا ردِعمل
اسکریننگ مکمل طور پر بھرے ہال میں ہوئی، مگر ماحول غیر معمولی طور پر پرسکون اور بوجھل تھا۔
بہت سے ناظرین نے باہر آکر کہا کہ فلم نے انہیں بچوں کے نقطۂ نظر سے جنگ کو دیکھنے پر مجبور کر دیا — ایسا زاویہ جو اکثر خبروں اور بیانات میں نظر نہیں آتا۔
فیسٹیول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سال وہ ایسی فلموں کو جگہ دینا چاہتے ہیں جو صرف کہانی نہ سنائیں، بلکہ سامعین کو سوچنے پر مجبور کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
اس افتتاحی انتخاب کے بعد چند بڑے سوال کھڑے ہو گئے ہیں:
-
کیا خطے کے دیگر فلم فیسٹیول بھی اتنی جرأت مند اور سیاسی موضوعات پر مبنی فلموں کو جگہ دیں گے؟
-
کیا یہ فلم مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر ریلیز ہوسکے گی؟
-
اور کیا یہ فلم جنگ زدہ بچوں کے حقوق پر عالمی مکالمے کو دوبارہ توجہ دلائے گی؟
فی الحال اتنا واضح ہے کہ دوحہ فلم فیسٹیول نے ایک مضبوط، معنی خیز آغاز کیا ہے — اور پہلی ہی رات یہ ثابت کر دیا کہ سنیما صرف تفریح نہیں، ایک آواز بھی ہے… وہ آواز جو شاید دنیا تک نہ پہنچ پاتی۔
