ماہرینِ امراضِ جلد نے شہر میں غیر محفوظ اور غیر مستند اسکن ٹریٹمنٹس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے طریقۂ علاج خطرناک انفیکشن، جھلسنے اور مستقل داغ دھبوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایل ای جے نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر میں منعقدہ عوامی آگاہی سیمینار "میڈیکل ایس تھیٹک آگاہی اور روزمرہ دیکھ بھال برائے صحت مند پاکستان” میں ماہرین نے اس مسئلے پر روشنی ڈالی۔ یہ سیمینار ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مولیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی نے سندھ انوویشن ریسرچ اینڈ ایجوکیشن نیٹ ورک (سائرن) اور حکومتِ سندھ کے تعاون سے منعقد کیا۔
کنسلٹنٹ گائنا کولوجسٹ اور ایس تھیٹک فزیشن ڈاکٹر تسنیم کوثر نے کہا کہ اکثر لوگ سستے بیوٹی سیلونز، غیر تصدیق شدہ مصنوعات اور غیر تربیت یافتہ افراد کے جال میں پھنس جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں جلدی امراض، جھلسنے اور طویل مدتی نقصانات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خطرناک اسکن ٹریٹمنٹس میں ناقص معیار کی مصنوعات، غیر معیاری ڈیوائسز، صفائی ستھرائی کا فقدان اور گمراہ کن وائٹننگ کریمز و انجیکشنز شامل ہیں۔
ڈاکٹر ثناء عدیل نے کہا کہ عام مسائل جیسے کیل مہاسے اگر درست طریقے سے علاج نہ ہوں تو سن ڈیمیج جیسے طویل المدتی مسائل بن جاتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ مستند ڈرماٹولوجسٹ سے رجوع کریں، معتبر بیوٹی کلینکس کا انتخاب کریں اور آفٹر کیئر ہدایات پر عمل کریں۔ انہوں نے جلدی فنگس کو ایک نہایت متعدی بیماری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر قسم کے میڈیکل یا جمالیاتی ٹریٹمنٹس صرف ماہر اور سند یافتہ پروفیشنلز سے ہی کروائے جائیں۔
ماہرین نے زور دیا کہ ملک میں بیوٹی کلینکس کا اندراج اور کڑی نگرانی ناگزیر ہے تاکہ عوام کو محفوظ ہیلتھ کیئر فراہم کی جا سکے۔
