کراچی:
پاکستان کے واحد WBA گولڈ ورلڈ بینٹم ویٹ چیمپئن محمد وسیم نے کہا ہے کہ وہ 29 نومبر کی بڑی فائٹ کے لیے پوری محنت اور توجہ کے ساتھ تیاری کر رہے ہیں، جہاں وہ تھائی لینڈ کے جکراوَت ماجونگوئن کے خلاف اپنا عالمی ٹائٹل دفاع کریں گے۔
وسیم اس وقت لیورپول میں اپنے کوچ ڈینی وان کے ساتھ ٹریننگ کر رہے تھے، اور اب ان کا خواب پورا ہونے جا رہا ہے کہ وہ اپنا ٹائٹل پاکستان میں، اپنے لوگوں کے سامنے، ڈیفینڈ کریں۔
اس سے پہلے وہ مئی میں کوئٹہ میں ایک بڑی فائٹ منعقد کر چکے ہیں، جسے پاکستان آرمی اور بلوچستان حکومت کی مدد حاصل تھی۔ یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ عالمی باکسنگ باڈی میں سے کسی ایک کے زیرِ سرپرستی پروفیشنل فائٹ منعقد ہوئی، جس میں غیر ملکی باکسرز اور آفیشلز نے شرکت کی۔
29 نومبر کی فائٹ نائٹ میں سات سے زائد مقابلے ہوں گے، اور 38 غیر ملکی باکسرز کے ساتھ چھ پاکستانی فائٹرز بھی لاہور کے گیریسن کلب میں مقابلہ کریں گے۔
فیلکن کے نام سے مشہور وسیم WBA کے ساتھ مل کر پاکستان میں باکسنگ کو فروغ دینے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ اس بار وہ برطانیہ، امریکہ، میکسیکو، جرمنی اور فرانس سے باکسرز لا رہے ہیں، جیسا کہ پنجاب کے وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکھر نے ‘فائٹ فار گلوری’ کی تیاریوں کے دوران بتایا۔
یہ پاکستان میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی فائٹرز ایک ساتھ مقابلہ کریں گے، اسی لیے سیکیورٹی کے خاص انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
وسیم کا مقابلہ چونکہ ایک ساؤتھ پا (الٹے ہاتھ کے اسٹائل) باکسر سے ہے، لہٰذا وہ اس کے مطابق اپنی تیاری کر رہے ہیں۔
“میں بہت سخت ٹریننگ کر رہا ہوں کیونکہ یہ فائٹ میرے لیے بہت اہم ہے،” وسیم نے لیورپول سے بتایا، جہاں وہ روزانہ پانچ گھنٹے ٹریننگ کرتے ہیں۔
“جکراوَت کے خلاف گیم پلان میرے پچھلے حریف سے مختلف ہوگا۔ زیادہ توجہ کمبینیشنز پر ہے۔ وہ بھی ساؤتھ پا ہے، اسی لیے میں اسی انداز میں پریکٹس کر رہا ہوں۔”
وسیم نے 2021 میں اس وقت کے عالمی چیمپئن سنی ایڈورڈز سے IBF فلائی ویٹ ٹائٹل کے لیے فائٹ کی تھی، جو وہ ہار گئے تھے، مگر انہوں نے مئی میں WBA گولڈ ورلڈ ٹائٹل جیت کر واپسی کی۔
پروفیشنل کیریئر میں وسیم نے 16 میں سے 14 فائٹس جیتی ہیں اور 10 ناک آؤٹس کر چکے ہیں۔ آمچور سرکٹ میں بھی وہ پاکستان کے لیے اعزاز جیت چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ
“زیادہ وقت طاقت، وزن اور ٹیکنیک کی ٹریننگ میں لگتا ہے۔ کئی بار مشکل بھی ہو جاتا ہے کیونکہ مجھے سپارنگ کے لیے دو گھنٹے کا سفر کرکے مانچسٹر جانا پڑتا ہے۔”
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یوکے میں ان کے سپارنگ پارٹنرز — جن میں انگریز، بھارتی اور دیگر پروفیشنل باکسر شامل ہیں — ان کی مکمل مدد کر رہے ہیں۔
“مجھے سپارنگ کے لیے لیورپول سے تقریباً 40 میل سفر کرنا پڑتا ہے۔ خاندان اور بچوں سے دور رہنا مشکل ہوتا ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ایونٹ پاکستان کے لیے ایک نیا راستہ کھول سکتا ہے۔”
وسیم، جو 2016 میں WBC سلور فلائی ویٹ ٹائٹل بھی جیت اور ڈیفینڈ کر چکے ہیں، اس ایونٹ میں امریکن ریپر مسٹر کیپونی-ای کو بھی پرفارمنس کے لیے بلا رہے ہیں۔ ان کا اصل مقصد پاکستانی شائقین کو عالمی معیار کی باکسنگ دکھانا اور مقامی باکسرز کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔
“میں کوئٹہ سے ہوں، اور جانتا ہوں کہ یہاں کتنے باکسر موقع نہ ملنے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ میرا مقصد ان کے لیے راستے کھولنا ہے، باکسنگ کو پاکستان میں مضبوط کرنا ہے۔ ہم خواتین باکسرز کے لیے بھی جگہ رکھ رہے ہیں، تاکہ وہ بھی آگے بڑھیں۔”
آخر میں انہوں نے پنجاب حکومت اور پاک فوج کا شکریہ ادا کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اتنے بڑے ایونٹ کا انعقاد ان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
