وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ پاکستان بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر جنگ جیت چکا ہے اور اب خطے میں امن چاہتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان تمام تنازعات پر بھارت کے ساتھ “جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات” کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا دہشت گردی، جھوٹی خبروں اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے بڑے خطرات سے دوچار ہے اور ان مسائل کے حل کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاک فوج اور فضائیہ کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت نے خطے کو بڑی جنگ سے بچایا، اسی لیے پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔
شہباز شریف نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ظلم ایک دن ختم ہوگا اور کشمیر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کے ذریعے اپنا حقِ خودارادیت حاصل کرے گا۔ انہوں نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگاتے ہوئے چھ سالہ بچی ہند رجب کی شہادت کو اس جنگ کا المناک واقعہ قرار دیا اور فوری جنگ بندی پر زور دیا۔
انہوں نے افغان حکومت سے دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی اور خواتین کے حقوق کی پاسداری کی امید ظاہر کی، جبکہ دنیا کو ہندوتوا اور اسلاموفوبیا جیسے نظریات کے خطرات سے خبردار کیا۔
وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلابوں کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری سے مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے معاشی اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری، ڈیجیٹلائزیشن اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حکومتی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔
شہباز شریف نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ: “پاکستان امن، انصاف اور ترقی کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتا رہے گا۔”
