اگر آپ نے حال ہی میں نیویارک کے سیاست دان زوہران مامدانی کا نام سنا ہے — جو اب شہر کے میئر بننے کے امیدوار ہیں — تو آپ نے شاید ان کی اہلیہ رَما دواجی (Rama Duwaji) کے بارے میں بھی جانا ہوگا۔ مگر وہ دراصل کون ہیں؟
رَما دواجی کسی سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک باصلاحیت فنکارہ ہیں۔ ان کا تعلق ہیوسٹن، ٹیکساس سے ہے، جہاں وہ شامی نژاد والدین کے گھر پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کم عمری ہی سے فنونِ لطیفہ سے لگاؤ رکھا اور آج وہ ایک ملٹی ڈسپلنری آرٹسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں — ان کا ہنر تصویرسازی، اینیمیشن اور سیرامکس جیسے مختلف شعبوں پر محیط ہے۔
ان کے فن پارے دنیا کے بڑے پلیٹ فارمز پر نمائش کے لیے پیش کیے جا چکے ہیں، جن میں دی نیویارکر، واشنگٹن پوسٹ، ایپل، اسپاٹیفائی اور ٹیٹ ماڈرن (Tate Modern) جیسے ادارے شامل ہیں۔ رَما نے نیو یارک کے اسکول آف ویژوئل آرٹس سے ماسٹرز ان السٹریشن کی ڈگری حاصل کی اور اب وہ نیو یارک ہی میں مقیم ہیں۔
فن کے ذریعے کہانی سنانے والی تخلیق کار
رَما دواجی کا فن صرف خوبصورتی نہیں بلکہ سوچ کا آئینہ ہے۔ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے شناخت، تعلق اور سماجی انصاف جیسے موضوعات کو اجاگر کرتی ہیں۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا:
“فن تخلیق کرنا خود ایک سیاسی عمل ہے — کہ کس کا فن سنا جاتا ہے، کس کو جگہ دی جاتی ہے، اور کس کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔”
ان کے کام میں اکثر ان کی شامی جڑوں اور تارکینِ وطن کے تجربات کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔
زوہران مامدانی سے ملاقات اور شادی
رَما اور زوہران کی کہانی جدید دور کی ایک دلچسپ محبت بھری کہانی ہے۔ دونوں کی ملاقات ڈیٹنگ ایپ Hinge پر ہوئی، جہاں گفتگو فن، کتابوں اور معاشرتی موضوعات سے شروع ہوئی اور رفتہ رفتہ تعلق گہرا ہوتا گیا۔
دونوں نے اکتوبر 2024 میں منگنی کی اور ابتدائی 2025 میں نیویارک میں ایک سادہ سول تقریب میں شادی کر لی، جس کے بعد دبئی میں ایک نجی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
زوہران کے سیاسی سفر کے باوجود، رَما نے ہمیشہ پردے کے پیچھے رہنے کو ترجیح دی ہے۔ وہ شاذ و نادر ہی سیاسی تقریبات میں نظر آتی ہیں اور اپنے سوشل میڈیا کو صرف اپنے فن کے اظہار کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
ایک مختلف انداز کی شریکِ حیات
رَما دواجی اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ وہ سیاسی دنیا میں شریکِ حیات کے ایک نئے تصور کی نمائندگی کرتی ہیں — وہ کسی سیاست دان کی شناخت کے سائے میں نہیں بلکہ اپنی تخلیقی پہچان کے ساتھ جیتی ہیں۔
اگر زوہران مامدانی نیویارک کے میئر منتخب ہو جاتے ہیں، تو امکان ہے کہ رَما دواجی شہر کی تاریخ کی سب سے تخلیقی اور غیر روایتی "فرسٹ لیڈی” بنیں گی — جو تقریریں نہیں بلکہ فن کے ذریعے اپنا پیغام دیں گی۔
