پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج (2 اپریل) کو آٹزم آگاہی ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد آٹزم سے متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے مسائل کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں شعور پیدا کرنا ہے۔
یہ دن 2007 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے باضابطہ طور پر منظور کیا گیا تھا تاکہ دنیا بھر میں آٹزم کے بارے میں آگاہی بڑھائی جا سکے اور اس سے متاثرہ افراد کے حقوق کو تسلیم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آٹزم ایک نیورولوجیکل یعنی اعصابی عارضہ ہے جو انسان کی سماجی روابط، بات چیت اور رویے پر اثر انداز ہوتا ہے، آٹزم سے متاثرہ افراد کو دوسروں کے ساتھ بات چیت کرنے، جذبات کے اظہار اور حالات کو سمجھنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
دنیا بھر میں آٹزم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کسی بھی نسل، علاقے یا سماجی حیثیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔
عالمی یومِ آٹزم آگاہی کے موقع پر مختلف ممالک میں سیمینار، آگاہی واکس اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو آٹزم کے بارے میں مزید معلومات دی جا سکیں اور یہ شعور اجاگر کیا جا سکے کہ آٹزم کے شکار افراد بھی عام انسانوں کی طرح معاشرے کا حصہ ہیں، اس دن نیلے رنگ کو آٹزم آگاہی کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں مشہور عمارتوں کو نیلی روشنیوں سے روشن کیا جاتا ہے تاکہ اس مسئلے پر توجہ مبذول کرائی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ آٹزم کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کریں اور آٹزم سے متاثرہ بچوں کیلئے زیادہ دوستانہ اور سپورٹیو ماحول فراہم کریں تاکہ وہ بھی ایک عام اور خوشگوار زندگی گزار سکیں۔
عالمی یومِ آٹزم آگاہی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ دنیا بھر میں معاشرتی سطح پر تعاون سے اس نیورولوجیکل عارضے کے بارے میں مثبت رویہ اپنایا جائے اور آٹزم کے شکار افراد کو قبول کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کو سراہا جائے تاکہ وہ بھی معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
