حکومت نے ایک اہم معاشی فیصلہ کرتے ہوئے IMF کے شرطی معاہدے کی روشنی میں Federal Board of Revenue (FBR) سے کچھ اختیارات واپس لے لیے ہیں اور نیا ٹیکس پالیسی آفس وزارتِ خزانہ کے تحت قائم کیا ہے۔
نئے نظام کے تحت FBR صرف ٹیکس جمع کرنے اور نفاذ کا ذمہ دار ہوگا، جبکہ ٹیکس کے اصول و ضوابط اور حکمتِ عملی کا کردار محکمہِ خزانہ کے اندر نئے ادارے کے پاس جائے گا۔ حکام کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت لانا اور انخلا کو کم کرنا ہے۔
یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب پاکستان کو ٹیکس وصولی میں کمی، مالی اہداف سے پیچھے رہنے اور IMF پروگرام میں اصلاحات کے عمل میں تاخیر کا سامنا ہے۔ ٹیکس بیس کو بڑھانا اور ٹیکس انتظامیہ کو مؤثر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
کشمکش یہ ہے کہ اس دو ذیلی انتظامی ماڈل سے تختہ کاری کم ہوگی یا پیچیدگیاں بڑھیں گی، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں ادارے کس طرح آپس میں مؤثر رابطے اور شفافیت برقرار رکھتے ہیں۔
