انسپکٹر جنرل سندھ پریزنز اینڈ کریکشن سروس، جناب فدا حسین مستوئی نے آج صوبے بھر کے تمام ڈپٹی انسپکٹر جنرلز اور جیل انچارج افسران کے ساتھ ایک اہم ورچوئل اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔
جس کے بعد آئی جی نے قیدیوں کی فلاح، جیل اصلاحات اور سیکیورٹی اپگریڈ پر پالیسی ہدایات جاری کیں۔
انسپکٹر جنرل نے افسران کی بعض جیلوں میں کارکردگی کو سراہا، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ صفائی و نظم دفاتر، سڑکیں، بارکس، اسپتال، کچن، رہائشی کالونیاں اور جیل کی بیرونی حدود مکمل طور پر صاف اور منظم ہوں۔
سیکیورٹی جیلوں میں بیریئرز، روڈ بلاکرز کو مؤثر طریقے سے نصب کیا جائے، اور داخلی نظام کو مزید مستحکم کیا جائے۔
خوراک و میس مینجمنٹ قیدیوں کو گرم اور معیاری خوراک مخصوص میس ہالز میں فراہم کی جائے، بارکس میں کھانا فراہم کرنے کا غیر معیاری طریقہ ترک کیا جائے۔
منشیات سے بحالی جیلوں میں منشیات کے شکار قیدیوں کے لیے بحالی پروگرامز کو ترجیحی بنیادوں پر اور مرحلہ وار جنگی حکمت عملی کے تحت نافذ کیا جائے۔
احتساب و شفافیت جیلوں میں موجود کرپشن کے خاتمے کے لیے خود احتسابی کی بنیاد پر سخت نگرانی اور عملے کی جانچ کی جائے۔
