کینبرا — آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک رواں ستمبر میں نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا۔ انہوں نے دو ریاستی حل کو “انسانیت کی بہترین امید” قرار دیا جو غزہ میں جنگ اور مصائب کو ختم کر سکتا ہے۔
البانیز نے کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں پر مبنی ہے، جن میں اسرائیل کے پرامن وجود کو تسلیم کرنا، غیر مسلح ہونا اور عام انتخابات کرانا شامل ہیں۔ ان کے بقول یہ اقدام فلسطینی عوام کو حقِ خود ارادیت دینے اور حماس کو تنہا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اس فیصلے کو آسٹریلین گرینز پارٹی نے خوش آمدید کہا، مگر اسرائیل اور حزبِ اختلاف نے اس کی مخالفت کی۔ اپوزیشن رہنما سوسن لی نے کہا کہ حماس کے غزہ پر قابض ہونے اور یرغمالیوں کی موجودگی میں یہ اقدام غلط ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت آیا ہے جب آسٹریلیا میں ہزاروں افراد اسرائیل کے خلاف پابندیوں اور اسلحہ کی تجارت روکنے کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر نکلے۔
دوسری جانب، نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ ان کی کابینہ اگلے ماہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ فی الحال اقوام متحدہ کے 193 میں سے 147 رکن ممالک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔
