اسلام آباد پولیس نے ایک نجی اسکول کے استاد کو اس وقت گرفتار کر لیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں اسے قرآن پاک کا سبق یاد نہ کرنے پر ایک طالبعلم کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
یہ واقعہ کلر سیداں کے علاقے میں واقع ایک نجی اسکول میں پیش آیا، جہاں استاد قاری محمد آکاش نے مبینہ طور پر طالبعلم ارمان آصف کو اس وقت مارا پیٹا جب وہ اپنے قرآنی اسباق دہرا نہیں سکا۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب کانسٹیبل کامران یعقوب نے دورانِ ڈیوٹی وائرل ویڈیو دیکھنے کے بعد مقدمہ درج کروایا۔ پولیس نے تصدیق کی کہ ملزم کو گرفتار کر کے ایسے قوانین کے تحت چارج کیا گیا ہے جو بچوں پر جسمانی سزا دینے پر پابندی عائد کرتے ہیں۔
ایس پی صدر، نبیل کھوکھر نے بتایا کہ شواہد واضح اور ناقابلِ تردید ہیں، اس لیے ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا، “بچوں پر تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اور کسی بھی شکل میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔” کھوکھر نے یقین دلایا کہ ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
یہ واقعہ پاکستان بھر میں تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ اور جسمانی سزا کے خاتمے پر ایک بار پھر بحث کو تازہ کر گیا ہے۔
