بالی وڈ کے لیجنڈ امیتابھ بچن نے دھرمیندر کی اسپتال میں بنی خفیہ ویڈیو پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور ویڈیو بنانے والوں کو اخلاقیات سے عاری قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں 89 سالہ دھرمیندر کو اسپتال کے بستر پر مختلف مشینوں سے جڑے ہوئے دکھایا گیا جبکہ اُن کے بیٹے سنی دیول اور بابي دیول اُن کے پاس کھڑے نظر آئے۔ پسِ منظر میں ایک خاتون روتے ہوئے پنجابی میں دھرمیندر سے کہہ رہی ہے کہ “تے نہیں جانا…”.
ویڈیو میں موجود کئی افراد اسپتال کے اسٹاف جیسے نہیں لگ رہے تھے، جس نے اس ریکارڈنگ کی نوعیت پر مزید سوال اٹھا دیے۔
امیتابھ بچن نے ایکس پر لکھا: “No ethics, koi bhee achaar-neeti nahin.” یعنی “کوئی اخلاقیات نہیں، کوئی اصول نہیں۔”
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ ویڈیو اسپتال کے کسی ملازم نے بنائی ہو، تاہم اسپتال انتظامیہ نے تاحال اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
دھرمیندر کو 10 نومبر کو گھر پر سانس لینے میں تکلیف ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اس دوران سوشل میڈیا پر کئی افواہیں گردش کرنے لگیں جن میں اداکار کے انتقال اور وینٹی لیٹر پر ہونے جیسے بے بنیاد دعوے شامل تھے۔
سنی دیول کی ٹیم نے وضاحت کی کہ دھرمیندر نہ تو وینٹی لیٹر پر ہیں اور نہ ہی اُن کی حالت تشویشناک ہے۔ بعد ازاں ایشا دیول نے بھی انسٹاگرام پر میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا: “میڈیا نے غلط افواہیں پھیلانا شروع کر دی ہیں۔ میرے پاپا ٹھیک ہیں اور ریکور کر رہے ہیں۔ برائے مہربانی ہماری پرائیویسی کا خیال رکھا جائے۔”
بعد ازاں ایک روز بعد دھرمیندر اسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر منتقل ہو گئے۔
چھ دہائیوں پر مشتمل شاندار فلمی سفر رکھنے والے دھرمیندر کو آج بھی بھارتی فلم انڈسٹری کا ایک ستون سمجھا جاتا ہے۔ وہ حال ہی میں 2024 کی فلم تری باتوں میں ایسا الجھا جیا میں نظر آئے تھے۔
