سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انسانی جسم کے مختلف زندہ بافتوں (Living Tissues) میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کا نقشہ تیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ "زمین پر تقریباً ہر انسان مائیکرو پلاسٹکس کے اثرات سے دوچار ہے۔”
تحقیق کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس کے انتہائی باریک ذرات انسانی جسم کے مختلف حصوں، بشمول جگر، گردوں، پھیپھڑوں اور دیگر بافتوں میں پائے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ذرات خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں۔
محققین نے نشاندہی کی ہے کہ اگرچہ مائیکرو پلاسٹکس کے طویل مدتی صحت پر اثرات کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم ابتدائی شواہد ان کے ممکنہ تعلق کو سوزش، خلیاتی نقصان اور دیگر صحت کے مسائل سے جوڑتے ہیں۔
سائنسدانوں نے پلاسٹک آلودگی میں کمی، ری سائیکلنگ کے بہتر نظام اور روزمرہ زندگی میں سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق مائیکرو پلاسٹکس کے انسانی صحت پر ممکنہ اثرات کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور عالمی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
