جکارتہ: انڈونیشیا میں بیلی جانے والی ایک فیری خراب موسم کے باعث سمندر میں ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ تقریباً 30 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق فیری پر 65 افراد سوار تھے، جن میں مسافر اور عملہ شامل تھا۔ یہ حادثہ رات تقریباً بارہ بجے (1520 جی ایم ٹی) اس وقت پیش آیا جب فیری جاوا سے بیلی کی طرف جا رہی تھی۔ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔
اب تک 31 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باوجود تلاش کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے۔
ریسکیو ایجنسی کے ترجمان کے مطابق، "ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ لاپتہ افراد کو ڈھونڈا جا سکے، مگر موسمی حالات رکاوٹ بن رہے ہیں۔”
ایک زندہ بچ جانے والے مسافر نے بتایا کہ فیری کے الٹنے کے وقت صورتحال انتہائی خوفناک تھی۔ "اندھیرا تھا، لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے، ہم نے بچنے کے لیے جو ہاتھ آیا اسے پکڑ لیا،” اُس نے بتایا۔ بیشتر مسافر انڈونیشی تھے، اور اب تک کسی غیر ملکی کے سوار ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
کابینہ سیکرٹری ٹیڈی اندرا ویجیایا نے حادثے کی وجہ خراب موسم کو قرار دیا، تاہم یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ انڈونیشیا میں سمندری حادثات معمول کا حصہ بن چکے ہیں، جن کی وجوہات میں پرانی کشتیوں کا استعمال، حفاظتی اقدامات کی کمی، اور غیر متوقع موسمی حالات شامل ہیں۔
انڈونیشیا ایک جزیرہ نما ملک ہے جہاں آمد و رفت کے لیے سمندری سفر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، مگر ایسے حادثات وقتاً فوقتاً دل دہلا دینے والی یاد دہانیاں بن جاتے ہیں کہ نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔
