ایران کے دارالحکومت تہران میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد سیاہ لباس پہنے سڑکوں پر نکل آئے تاکہ حالیہ اسرائیلی فضائی جنگ میں جاں بحق ہونے والے فوجی کمانڈروں، ایٹمی سائنسدانوں اور شہریوں کی آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق 60 افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی، جن میں 16 ایٹمی سائنسدان، 10 اعلیٰ فوجی افسران، چار خواتین اور چار بچے شامل تھے۔
جن اہم شخصیات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ان میں شامل تھے:
-
میجر جنرل محمد باقری (چیف آف آرمڈ فورسز)
-
جنرل حسین سلامی (کمانڈر پاسداران انقلاب)
-
جنرل امیر علی حاجی زادہ (ایرو اسپیس فورس کے سربراہ)
ان کے تابوت ایرانی جھنڈے میں لپٹے ہوئے آزادی چوک میں لائے گئے، جہاں لوگوں نے ان پر پھول نچھاور کیے اور ہاتھ لگا کر عقیدت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میزائلوں کی نمائش بھی کی گئی، جسے قومی مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
صدر مسعود پزشکیان، رہبر معظم کے مشیر علی شمخانی (جو جنگ میں زخمی ہوئے)، اور آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبی خامنہ ای نے بھی شرکت کی۔ تاہم آیت اللہ خامنہ ای خود اس موقع پر موجود نہیں تھے، اور انہوں نے جنگ کے آغاز کے بعد سے صرف دو ریکارڈ شدہ ویڈیوز میں پیغامات دیے ہیں۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا:
"ایرانی قوم نے دو ایٹمی طاقتوں کے خلاف بہادری سے دفاع کیا اور پہلے سے زیادہ باوقار اور پرعزم ہو کر ابھری ہے۔”
جنگ کا پس منظر اور جانی نقصان
جنگ کا آغاز 13 جون کو ہوا جب اسرائیل نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے کئی اہم شخصیات کو ہلاک کر دیا۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیلی شہروں اور فوجی اڈوں پر میزائل داغے۔
22 جون کو امریکہ نے بھی جنگ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ایران پر فضائی حملے کیے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے کسی کارروائی کی تو وہ دوبارہ حملہ کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا تھا، جبکہ ایران اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایٹمی نگران ادارے کے مطابق، ایران میں ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی فعال پروگرام موجود نہیں ہے۔
ایرانی وزارت صحت کے مطابق 610 افراد جاں بحق اور 4,700 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ انسانی حقوق کی آزاد تنظیم HRANA کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 974 ہے، جن میں 387 شہری شامل ہیں۔
اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق جنگ میں 28 اسرائیلی ہلاک اور 3,238 زخمی ہوئے۔
