تہران – ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ کوئی فوجی حملہ کیا گیا تو اس کا ردعمل پہلے سے بھی زیادہ شدید ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ایران-اسرائیل جنگ میں امریکی اڈے پر حملہ ایک "حساس ہدف” تھا، اور ایران اس سے بڑا وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ "امریکہ اور اس کے پٹھو صیہونی ریاست کے خلاف ایرانی قوم کی تیاری قابلِ تحسین ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ایران نے قطر میں امریکی اڈے "العدید” کو نشانہ بنایا، اور مستقبل میں اس سے بھی بڑے حملے ممکن ہیں۔ انہوں نے سفارتکاروں پر زور دیا کہ وہ "رہنما اصولوں” کے مطابق اپنے کام کو جاری رکھیں۔
ادھر ایرانی پارلیمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات اس وقت تک بحال نہیں کیے جائیں گے جب تک کہ پہلے سے طے شدہ شرائط پوری نہ کی جائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جب امریکہ مذاکرات کو حملوں کی آڑ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اعتماد بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی پر کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کرے گا اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی کوئی بات نہیں کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ نے 12 روزہ جنگ سے پہلے عمان کی ثالثی میں پانچ مرحلوں پر مشتمل بالواسطہ مذاکرات کیے تھے، جو کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
