راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
بدھ کو اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کی، جو 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد درج کیا گیا تھا۔ اس کیس میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت پر تشدد کو بھڑکانے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور فوجی تنصیبات پر حملے کے الزامات عائد ہیں۔
جیل ٹرائل سے ویڈیو لنک تک
پنجاب حکومت نے پہلے جیل ٹرائل کی اجازت دی تھی، تاہم بعد میں یہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔ اس کے بعد عمران خان کی قانونی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے تاکہ سیکیورٹی اور قانونی تقاضے پورے ہوسکیں۔ عدالت نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ان کی ورچوئل حاضری کا حکم دے دیا۔
اسی کیس میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
آئندہ سماعتیں
عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔ اس روز عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو ویڈیو لنک کے ذریعے شاملِ سماعت کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مئی 9 کے دیگر 11 مقدمات کی کارروائی یکم اکتوبر سے دوبارہ شروع ہوگی۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ ان مقدمات کے چالان اور دیگر دستاویزات تمام فریقین کو فراہم کیے جائیں۔
اہمیت کیوں ہے؟
عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف ہائی پروفائل ملزمان کو عدالت لانے کے دوران پیدا ہونے والے ممکنہ سیکیورٹی خدشات کو کم کرتا ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حساس نوعیت کے سیاسی مقدمات کو کس طرح نئے طریقہ کار کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔
عمران خان کے حامی اسے ان پر بڑھتے دباؤ کی ایک اور مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق یہ اقدام 9 مئی کے واقعات کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں عمران خان کی قانونی جنگیں پہلے ہی ملکی و بین الاقوامی سطح پر بھرپور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ آئندہ سماعتوں میں ان کی ویڈیو لنک کے ذریعے موجودگی بھی سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر ڈالنے کا امکان رکھتی ہے۔
