برطانوی نژاد پاکستانی کوہ پیما نادیہ آزاد نے نیپال کی مشہور چوٹی ماناسلو (8163 میٹر) سر کر کے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا۔ وہ 26 ستمبر کی صبح مقامی وقت کے مطابق 5 بج کر 15 منٹ پر دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی کی چوٹی پر پہنچیں۔ یہ کارنامہ انہیں پاکستان کی اُن چند خواتین میں شامل کرتا ہے جو دنیا کی مشکل ترین چوٹیوں کو سر کر چکی ہیں۔
نئی تاریخ رقم
اس کامیابی کے ساتھ نادیہ آزاد پاکستان کی دوسری خاتون بن گئیں جنہوں نے چار 8000 میٹر سے بلند پہاڑ سر کیے۔ اس سے پہلے وہ اناپورنا ون، ایورسٹ اور لوٹسے بھی سر کر چکی ہیں۔
پاکستانی کوہ پیمائی کے حلقوں میں اس کارنامے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نادیہ آزاد نہ صرف اپنے لیے بلکہ پاکستانی خواتین کے لیے بھی نئی راہیں کھول رہی ہیں جو اس کھیل میں زیادہ نمائندگی کی خواہش رکھتی ہیں۔
کامیابی کا سفر
نادیہ آزاد کا سفر مستقل مزاجی سے بھرپور ہے۔ اپریل 2023 میں انہوں نے پہلی بار 8000 میٹر کی چوٹی اناپورنا سر کی۔ اسی سال مئی میں انہوں نے ایورسٹ اور لوٹسے کو بیک ٹو بیک سر کر کے دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو حیران کر دیا۔
اس کے علاوہ وہ دنیا کے ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں یعنی سیون سمٹس بھی مکمل کر چکی ہیں۔ ڈینالی (شمالی امریکا)، اکانکاگوا (جنوبی امریکا)، کلیمنجارو (افریقہ)، البرس (یورپ)، ونسن (انٹارکٹیکا) اور کارسٹنز پائری مڈ (آسٹریلیا) ان کی فتوحات کی فہرست میں شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نادیہ آزاد صرف کوہ پیمائی تک محدود نہیں۔ وہ ایک شاندار ماراتھن رنر بھی ہیں اور نیویارک، برلن اور لندن جیسے بڑے ماراتھن مکمل کر چکی ہیں۔ اگلے ماہ وہ شکاگو ماراتھن میں شرکت کریں گی۔
تحریک کی علامت
کراچی میں پیدا ہونے والی نادیہ آزاد کو اب دنیا بھر میں پاکستانی خواتین کی پہچان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک کوہ پیما نے سوشل میڈیا پر لکھا: "یہ صرف ایک چوٹی سر کرنے کا معاملہ نہیں، یہ حدوں کو توڑنے اور نئی مثال قائم کرنے کی بات ہے۔”
آگے کا سفر
چار 8000 میٹر کی چوٹیاں اور سیون سمٹس مکمل کرنے کے بعد نادیہ آزاد نے وہ کر دکھایا ہے جو دنیا کے چند ہی کوہ پیماؤں کے حصے میں آتا ہے۔ لیکن ان کے سفر کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ وہ یہیں رکنے والی نہیں۔
فی الحال، ماناسلو کی یہ فتح اُن کے کیریئر کا ایک اور یادگار باب ہے اور پاکستان کے لیے عالمی سطح پر فخر کا موقع۔
