برٹش کونسل پاکستان نے ایجوکیشن سمپوزیم 2025 کا انعقاد کیا، جس میں ملک بھر سے نمایاں ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز اور تخلیقی ماہرین اکٹھے ہوئے۔ اس اجلاس کا مقصد پاکستان میں ایک جامع، جدید اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق تعلیمی نظام کے لیے نئے حل تلاش کرنا تھا۔ یہ پورے دن جاری رہنے والا سمپوزیم تعلیمی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے، جدت کو فروغ دینے اور بہتر سیکھنے کے نتائج کے لیے عملی اقدامات پر مرکوز تھا۔
سمپوزیم میں “دی فیوچر آف انگلش” کے عنوان سے کلیدی خطاب ڈائریکٹر انگلش اینڈ اسکول ایجوکیشن برٹش کونسل مائیکل کونولی نے کیا۔ انہوں نے انگریزی زبان، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شمولیت کے بڑھتے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جدید اور مساوی تعلیمی ماحول کے قیام کے لیے ان عوامل کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ہر طالب علم کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے جو تعلیم کو قابلِ رسائی، موثر اور حقیقی طور پر تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔
برٹش کونسل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز ہیمپسن نے کہا کہ یہ سمپوزیم تعلیم میں جدت اور تحریک کا امتزاج تھا، جہاں طلبہ اور ادارے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی آج صرف زبان نہیں بلکہ عالمی مواقع، رابطے اور جدت کا ذریعہ ہے۔
سمپوزیم میں مختلف پینل مباحثے اور عملی ورکشاپس بھی شامل تھیں جن میں ہنر کی ترقی، تعلیمی پالیسی اور ڈیجیٹل لرننگ ٹولز پر گفتگو ہوئی۔ شراکت دار اداروں میں سنو کہانی میری زبانی، برین اسپیس، تعلیم آباد, ILMpact اور سائنس فیوز شامل تھے، جنہوں نے کہانی گوئی، فنون، مصنوعی ذہانت اور ایڈ ٹیک کے ذریعے تدریس کے تخلیقی اور تحقیق پر مبنی طریقے پیش کیے۔
تقریب میں صوبائی محکمہ جاتِ تعلیم، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ برٹش کونسل پاکستان کے تعلیمی شعبے میں مکالمے اور تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔یہ سمپوزیم پاکستان میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، تعلیمی جدت اور جامع سیکھنے کے مواقع کے فروغ کے لیے برٹش کونسل کی جاری کوششوں کا تسلسل ہے۔
